آذاد کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشتگردی بے نقاب، مزید شواہد سامنے آگئے
اشاعت کی تاریخ: 30th, May 2025 GMT
مظفرآباد (اوصاف نیوز) آزاد کشمیر پولیس نے بھارتی ریاستی دہشتگردی سے متعلق مزید شواہد منظرِ عام پر لاتے ہوئے ایک منظم دہشتگرد نیٹ ورک کا پردہ چاک کیا ہے۔
آئی جی پولیس آزاد کشمیر کے مطابق 17 اپریل 2025ء کو پولیس نے دہشتگرد ڈاکٹر عبدالرؤف کی افغانستان میں موجودگی کے ناقابل تردید شواہد پیش کیے تھے۔
آئی جی پولیس نے انکشاف کیا کہ ڈاکٹر عبدالرؤف کشمیری نوجوانوں کو جہاد کے نام پر ذہن سازی کے ذریعے دہشتگردی پر اکسا رہا ہے اور اس مکروہ مقصد کے لیے اسے غازی شہزاد (ٹی ٹی آر جے کے) کی مکمل معاونت حاصل ہے۔
دونوں مل کر شریعت اور جہاد کا نام استعمال کر کے ریاستی اداروں، عوامی اجتماعات، سرکاری دفاتر اور دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے منصوبے بنا رہے تھے۔پولیس کے مطابق شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ کشمیری نوجوان افغانستان میں دہشتگردی کی تربیت لے کر بھارتی ایجنسیوں سے روابط قائم کرتے ہیں۔
مزید بتایا گیا کہ 27 اکتوبر 2024ء کو پولیس چوکی پر کانسٹیبل سجاد کی ٹارگٹ کلنگ میں دہشتگرد زرنوش نسیم، اسامہ اسلم اور الفت علی ملوث پائے گئے۔ یہ تینوں فتنہ الخوارج سے تعلق رکھتے ہیں اور ڈاکٹر عبدالرؤف و غازی شہزاد کے اشارے پر دہشتگردانہ کارروائیوں میں سرگرم تھے۔
آئی جی پولیس کے مطابق فتنہ الخوارج آزاد جموں و کشمیر میں دہشتگردی کی ایک نئی مہم کا آغاز کرنا چاہتا تھا، تاہم سخت سکیورٹی کے باعث زرنوش نسیم، الفت علی اور جبران اپنے کسی ہدف کو نشانہ بنانے میں ناکام رہے۔ پولیس کے مطابق گزشتہ کئی ماہ سے زرنوش نسیم اور اس کے ساتھی افغانستان میں موجود دہشتگرد قیادت سے رابطے میں تھے۔ 28 مئی 2025ء کو مصدقہ اطلاع ملی کہ یہ گروہ علاقے حسین کوٹ میں موجود ہے۔
جس پر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے علاقے کو گھیرے میں لیا۔دہشتگردوں نے ہتھیار ڈالنے کے بجائے سکیورٹی اہلکاروں پر خودکار ہتھیاروں سے حملہ کر دیا، تاہم جوابی فائرنگ میں تمام، چاروں دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔
اس کارروائی کے دوران پولیس کے دو جوان شہید جبکہ پانچ شدید زخمی ہوئے۔ آئی جی پولیس نے اسے ایک بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ آپریشن آزاد جموں و کشمیر پولیس کی پیشہ ورانہ مہارت، ہم آہنگی اور عزم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
پولیس نے ریاض مغل ایس ایس پی کی سربراہی میں کاروائی کی۔واضح رہے کہ بروقت اور مؤثر کارروائی سے نہ صرف ایک خطرناک دہشتگرد گروہ کا خاتمہ کیا گیا بلکہ عوام کی جان و مال کو محفوظ بناتے ہوئے علاقے میں امن و امان کو یقینی بنایا گیا۔
سوات، گردونواح زلزلے سے لرزاٹھے، شدت 4.
2 ریکارڈ
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: ا ئی جی پولیس پولیس کے کے مطابق پولیس نے
پڑھیں:
فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق سیکیورٹی فورسز(security forces) نے 24 مئی 2026 کو پیش آنے والے ریل حادثے کے بعد خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر بلوچستان کے اضلاع مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ میں کارروائیاں کیں۔
بیان میں کہا گیا کہ ان کارروائیوں کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور شدید فائرنگ کے تبادلوں کے دوران بھارتی اسپانسرڈ فتنۃ الہندوستان کے 17 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا اور ان علاقوں میں سرگرم دہشت گردی کے نیٹ ورکس کو بڑا دھچکا پہنچایا ہے۔
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ بھارتی اسپانسرڈ ہلاک دہشت گردوں کے زیرقبضہ ہتھیار، باردو اور بڑے پیمانے دھماکا خیز مواد اور مواد تیار کرنے کی ڈیوائسز برآمد کرلی گئیں۔
بیان میں بتایا گیا کہ ہلاک دہشت گرد بلوچستان کے ان علاقوں میں دہشت گردی کے کئی اہم واقعات میں ملوث رہے تھے۔
مزید پڑھیں:پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ علاقے سے دہشت گردوں کے صفایا کرنے کے لیے سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے، سیکیورٹی فورسز اور پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی عزم استحکام وژن کے تحت دہشت گردی کے خاتمہ کی مہم پوری رفتار سے جاری رہے گی تاکہ ملک سے بیرونی اسپانسرڈ اور تعاون سے جاری دہشت گردی کے ناسور کا مکمل خاتمہ ہو۔