تہذیبوں کے مابین مکالمہ ہی عالمی امن کی بنیاد ہے: عطاء تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے) وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ بیجنگ پہنچ گئے۔ اعلامیہ کے مطابق وزیر اطلاعات بیجنگ میں عالمی تہذیبوں کے مکالمے پر وزارتی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ یہ مکالمہ چینی صدر شی چن پنگ کے وژن پر مبنی عالمی تہذیبوں کے اقدام کا حصہ ہے۔ عطاء تارڑ ثقاتفی وزارت اور بصیرت کے موضوع پر فورم سے خطاب کریں گے۔ ان کی سی پی سی سینٹرل کمیٹی کے پبلسٹی ڈیپارٹمنٹ کی ڈپٹی ہیڈ سے ملاقات ہوگی۔ پاکستان اور چین کے درمیان میڈیا تعاون کو مزید فروغ دینے، ثقافتی تبادلے اور باہمی افہام و تفہیم کے نئے مواقع تلاش کرنے پر بھی تبادلہ خیال ہوگا۔ وفاقی وزیر نے کہا ہے کہ تہذیبوں کے درمیان مکالمہ ہی عالمی ہم آہنگی، امن اور ترقی کی بنیاد ہے۔ پاکستان اس عمل میں اپنا فعال کردار اد اکرتا رہے گا۔ پاکستان اور چین کے درمیان میڈیا اور ثقافتی تعاون عوام کو قریب لا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: تہذیبوں کے
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔