اراضی کیس میں چوہدری پرویز الہٰی کے وارنٹ گرفتاری منسوخ
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
راولپنڈی (جنرل رپورٹر+ آئی این پی) راولپنڈی کی خصوصی احتساب عدالت کے جج شیخ اعجاز علی نے اراضی کیس میں چوہدری پرویز الہی کے وارنٹ گرفتاری منسوخ کر دئیے ہیں۔ عدالت نے یہ وارنٹ تخت پڑی جنگلات اراضی ریفرنس میں پرویز الہی کی عدم حاضری پر جاری کئے تھے عدالت نے حاضری استثنی سمیت دو درخواستوں پر سماعت مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے سماعت 17 جولائی تک ملتوی کردی۔ پرویز الہی کے وکیل نے ریفرنس کی حیثیت کو چیلنج کئے جانے کے لئے درخواست دائر کردی۔ پرویز الہی نے عدالت کو بتایا کہ میری میڈیکل رپورٹس آپ کے سامنے ہیں، میری طبیعت ایسی ہے کہ میں ہر پیشی پہ یہاں پیش نہیں ہو سکتا۔ میری صحت دیکھ کر خیال رکھا جائے، نہیں تو تین ہفتے تک مجھے مہلت دی جائے۔ راولپنڈی آئی این پی کے مطابق میڈیا سے گفتگو میں پرویز الہی نے کہاہے کہ ہمیشہ بہتری کی امید رکھنی چاہیے اور مجھے امید ہے حالات بہتر ہوں گے۔ ان سے سوال کیاگیا کہ ایک طرف احتجاج کی کال اور دوسری طرف مذاکرات کی باتیں کون سا راستہ درست ہے؟۔ اس پر پرویز الہی نے کہا کہ پہلے مزاحمت ہوتی ہے پھر مفاہمت ہوتی ہے تو مفاہمت ہی بہتر ہے، مذاکرات کی کوئی نہ کوئی صورتحال بہتر نکل آتی ہے۔ مذاکرات سے متعلق تو پی ٹی آئی لیڈرشپ نے ایک خط بھی لکھا ہے لیکن اس کا تاحال جواب یا پیشرفت سامنے نہیں آئی، اب دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پرویز الہی
پڑھیں:
شیخ رشید نے راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار میں رکنیت بحالی کی درخواست جمع کرا دی
راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن) عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن میں اپنی رکنیت بحالی کے لیے باضابطہ درخواست جمع کرا دی۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ زندگی کا ایک عجوبہ کام جو مجھے بہت پہلے کرنا چاہئے تھا، اب کر رہا ہوں، مجھے بار کی رکنیت 50 سال پہلے حاصل کرنی چاہیے تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ سردار رازق کے چیمبر کے ذریعے ڈسٹرکٹ بار کی رکنیت کی بحالی کی درخواست کر رکھی ہے۔
شیخ رشید نے کہا کہ ڈسٹرکٹ بار کی رکنیت بحال ہو گئی تو بار کی سیاست نہیں کروں گا، صرف اور صرف سردار رازق کے چیمبر میں بیٹھ کر پریکٹس کروں گا۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
مزید :