فتنہ الہندوستان دہشتگردوں کا بینک اور سرکاری افسر کے گھرپر حملہ،جانی نقصان
اشاعت کی تاریخ: 30th, May 2025 GMT
بلوچستان کے ضلع سوراب میں فتنتہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے بینک اورسرکاری افسر کے گھر پر حملہ کردیا اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (اے ڈی سی) ریونیو ہدایت بلیدی دہشت گردوں سے لڑتے ہوئے شہید ہوگئے۔
ترجمان بلوچستان حکومت شاہد رند کے مطابق سوراب میں بینک اورانتظامی آفیسرکی رہائشگاہ پرحملہ ریاستی رٹ چیلنج کرنے کی مذموم کوشش ہے، سوراب بازارمیں بینک لوٹا گیا اوت سرکاری افسران کے گھر جلائے گئے۔
ترجمان کا کہنا تھاکہ حملے میں اے ڈی سی ریونیو ہدایت بلیدی نے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا، وطن کے سپاہی نے جان کا نذرانہ دے کربہادری کی نئی مثال قائم کی، اے ڈی سی رہائش گاہ پرخواتین اور بچے موجود تھے۔
ترجمان بلوچستان حکومت کے مطابق بھارت کی پراکسیز نے بھارت کی ایما پر کارروائی کی تاہم ریاست دشمن عناصرکی ہرکوشش ناکام بنائیں گے۔
ان کا کہنا تھاکہ علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے، ایف سی، پولیس اور لیویزعلاقے میں پہنچ گئیں۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق سوراب میں مسلح افراد نے پولیس اسٹیشن پر بھی حملہ کرکےاسے آگ لگادی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ ترجمان کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔
اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر معمولی کمی کے بعد 22 ارب 66 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مجموعی ذخائر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی بل کی ادائیگی اور روپے کے استحکام کے لیے بھی یہ مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
تاہم ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور بین الاقوامی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت اور مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔