سوراب، سرکاری عمارتوں پر کالعدم تنظیم کا حملہ، ایڈیشنل ڈی سی جانبحق
اشاعت کی تاریخ: 30th, May 2025 GMT
تنازعات پر نظر رکھنے والے نجی خبر رساں ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ بلوچستان کے شہر سوراب پر کالعدم تنظیم کے حملہ آوروں نے حملہ کر دیا ہے۔ جس میں سرکاری عمارات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان کے شہر سوراب میں کالعدم تنظیم کے مسلح افراد نے حملہ کرتے ہوئے پولیس اسٹیشن سمیت متعدد سرکاری عمارات کو نذرآتش کر دیا ہے۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریوینیو پر بھی حملے کی اطلاع ہے۔ تنازعات پر نظر رکھنے والے نجی خبر رساں ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ بلوچستان کے شہر سوراب پر کالعدم تنظیم کے حملہ آوروں نے حملہ کر دیا ہے۔ جس میں سرکاری عمارات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایک پولیس اسٹیشن کو بھی نذرآتش کیا گیا ہے، جبکہ حملے کے نتیجے میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریوینیو کے بھی جان بحق ہونے کی اطلاعات ہیں۔ مبینہ طور پر کوئٹہ کراچی شاہراہ پر کالعدم تنظیم کے مسلح افراد نے ناکہ بندی کرتے ہوئے چیکنگ بھی شروع کر دی ہے۔ اس حوالے سے تاحال حکومت کی جانب سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کالعدم تنظیم کے پر کالعدم تنظیم
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔