اسحاق ڈار نے عالمی ثالثی تنظیم کے قیام کی کنونشن پر دستخط کردیے
اشاعت کی تاریخ: 30th, May 2025 GMT
اسحاق ڈار— فائل فوٹو
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ہانگ کانگ میں عالمی ثالثی تنظیم کے قیام کی کنونشن پر دستخط کردیے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان کی جانب سے عالمی ثالثی تنظیم کے کنونشن پر دستخط کیے گئے، وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے تقریب سے خطاب میں چین کے وژن کو سراہا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان عالمی تنازعات کے پُرامن حل پر پختہ یقین رکھتا ہے، بھارت بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزیاں کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھنا بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ جموں و کشمیر تنازع کا حل ناگزیر ہے، پاکستان عالمی سطح پر مؤقف اُجاگر کرتا رہے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار نے
پڑھیں:
وزیر تجارت سے کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات، تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے صنعت کو درپیش مشکلات بارے آگاہ کیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سے پاکستان کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفد نے ملاقات کی اور انہیں علاقائی تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے قالینوں کی صنعت کو درپیش مشکلات بارے آگاہ کیا ۔ جمعے کو جاری بیان کے مطابق ملاقات میں وزیر تجارت نے ہاتھ سے بنے قالینوں کی برآمدات بڑھانے اور عالمی مسابقت بہتر بنانے کے اقدامات پر تفصیلی بات چیت کی اورپاکستانی قالینوں کی عالمی منڈیوں میں رسائی اور برآمدی مسابقت بڑھانے کے لیے پالیسی اقدامات کا جائزہ بھی لیا۔وفد نے علاقائی تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے قالینوں کی صنعت کو درپیش مشکلات سے وزیر تجارت کو آگاہ کیا۔(جاری ہے)
وفد نے کہا کہ کاروبار دوست اور قابلِ پیش گوئی پالیسی فریم ورک برآمدات کے فروغ کے لیے ناگزیر ہے۔ جام کمال نے کہا کہ حکومت شفاف، قواعد پر مبنی اور سرمایہ کار دوست پالیسیوں کے ذریعے برآمدات کے فروغ کے لیے پرعزم ہے،وزارتِ تجارت صنعت کی تجاویز پر متعلقہ اداروں سے مشاورت کے بعد قابلِ عمل حل تیار کرے گی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی برآمدی حکمتِ عملی ویلیو ایڈیشن، برآمدی صنعت، برانڈنگ اور عالمی ویلیو چینز میں شمولیت پر مرکوز ہے، حکومت نجی شعبے کے تعاون سے تجارت میں حائل حقیقی رکاوٹیں دور کر کے برآمدات پر مبنی پائیدار ترقی کو فروغ دے گی۔\932