بیجنگ :سی پی سی کی مرکزی کمیٹی کے پولیٹیکل بیورو کے رکن اور وزیر خارجہ وانگ ای  نے شیا من   شہر میں کریباتی کے صدر اور وزیر خارجہ ماماؤ کے ساتھ چین-بحرالکاہل ک جزائر ممالک  کے وزرائے خارجہ کے تیسرے اجلاس کی مشترکہ صدارت کی۔جمعہ کے روز چینی میڈیا نے بتایا کہ وانگ ای نے کہا کہ اس سال بحرالکاہل  جزائر  ممالک کے ساتھ چین کے سفارتی تعلقات کی 50 ویں سالگرہ ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا  کہ بین الاقوامی صورتحال کیسے تبدیل ہوتی ہے ، چین ہمیشہ بحرالکاہل   جزائر  ممالک کو اچھا دوست ، اچھا شراکت دار اور اچھا بھائی سمجھتا ہے۔ صدر شی جن پھنگ کی جانب سے تجویز کردہ “چار مکمل احترام”  بحرالکاہل   جزائر ممالک کے ساتھ چین کے تعلقات کے بنیادی اصول ہیں۔ صدر شی جن پھنگ اور بحرالکاہل   جزائر ممالک کے رہنماؤں کی اسٹریٹجک رہنمائی کے تحت چین بحرالکاہل  جزائر  ممالک کی جامع اسٹریٹجک شراکت داری نے نئی قوت کا مظاہرہ کیا ہے، نئی کامیابیاں حاصل کی ہیں اور ایک نئی سطح پر پہنچ گئی ہے۔وانگ ای نے چین  بحرالکاہل جزائر ممالک ہم نصیب معاشرے  کی تعمیر کے لئے چھ تجاویز پیش کیں:سب سے پہلے، باہمی احترام پر عمل کریں.

دوسرا ،  ترقی کو  اولین حیثیت دیں۔ تیسرا ، عوام پر مبنی نقطہ نظر پر عمل کیا جائے۔ چوتھا، تبادلوں اور باہمی سیکھنے پر عمل کریں۔ پانچواں، عدل و انصاف کو برقرار رکھیں۔ چھٹا، ایک دوسرے کی حمایت اور مدد کریں۔تمام شرکاء نے صدر شی جن پھنگ کے بنی نو ع انسان کے ہم  نصیب معاشرے  کی تعمیر کے وژن، “چار مکمل احترام” کے اصول اور تین عالمی انیشی ایٹوز  کو سراہا اور جزائر ممالک  کی ترقی کے لئے طویل مدتی قابل قدر حمایت پر چین کا شکریہ ادا کیا۔تمام فریقین نے چین – بحرالکاہل جزائر  ممالک کے وزرائے خارجہ کے تیسرے اجلاس کے مشترکہ اعلامیے کو متفقہ طور پر منظور کیا۔

Post Views: 4

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: جزائر ممالک ممالک کے

پڑھیں:

ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی

ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

متعلقہ مضامین

  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا