افغان وزیر خارجہ جلد 3 روزہ دورے پر پاکستان آئینگے
اشاعت کی تاریخ: 30th, May 2025 GMT
واشنگٹن:
توقع کی جارہی ہے کہ افغان عبوری وزیر خارجہ 2 سالوں میں پہلے مرتبہ جلد ہی اسلام آباد کا دورہ کریں گے۔
گزشتہ روز ایک سفارتی ذریعے نے بتایا کہ امیر خان متقی جلد ہی پاکستان کا دورہ کریں گے، اس حوالے سے تاریخوں پر کام کیا جارہا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ افغان فریق نے پہلے ہی دعوت قبول کر لی ہے، ایک ذریعے کے مطابق یہ ایک دن کا نہیں بلکہ 3روزہ دورہ ہوگا جس میں تمام معاملات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
اپریل میں وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کابل کا دورہ کیا جو تین سالوں میں کسی پاکستانی اعلیٰ عہدیدار کا پہلا دورہ تھا، اس دورے سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے میں مدد ملی۔
مزید پڑھیں: ’پاکستان میں لڑنا جائز نہیں‘، افغان طالبان کا فتنۃ الخوارج کو انتباہ
ذرائع کا کہنا ہے کہ امیر خان متقی کا دورہ اعلیٰ سطح کے تبادلوں کو بڑھانے کی کوششوں کا حصہ ہے، دونوں فریقوں نے ایک روڈ میپ تیار کیا ہے جس میں دونوں اطراف کے عہدیداروں اور وزرا کے دوروں کے سلسلے کو ذہن میں رکھا گیا ہے۔
پاکستان کیلیے خطرہ بننے والے گروپوں کے خلاف افغان طالبان کی حکومت کی حالیہ کارروائیوں اور سینئر طالبان کمانڈر سعید اللہ کے بیرون ملک لڑنے والوں کیخلاف بیان نے ظاہر کیا ہے کہ افغان طالبان کا نقطہ نظر تبدیل ہو رہا ہے۔
ذرائع نے کہا ہے کہ ان اقدامات کے بدلے میں پاکستان اور چین اقتصادی اور سفارتی طور پر کابل کی مدد کرنے کیلیے تیار ہیں، پاکستان نے پہلے ہی عندیہ دیا تھا کہ وہ سفیروں کا تبادلہ کرکے افغانستان کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کیلیے تیار ہے اور یہ اقدام طالبان حکومت کیلیے بڑی سفارتی جیت شمار ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کا دورہ
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔