لاہور (نامہ نگار) صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ جمہوریت کے تسلسل اور اداروں کے استحکام کے لیے باہمی ہم آہنگی اور سیاسی مکالمے کا فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ عوامی مسائل کے دیرپا حل کے لئے تمام طبقات کے ساتھ مشاورت اور تعاون کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ وہ گورنر ہائوس لاہور میں گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر کی موجودگی میں پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کے رہنمائوں چودھری ذکاء اشرف، ممتاز علی چانگ، مخدوم شہاب الدین اور رکن قومی اسمبلی مخدوم طاہر پر مشتمل وفد سے گفتگو کر رہے تھے۔ ملاقات میں جنوبی پنجاب کو درپیش دیرینہ مسائل اور دیگر امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے لاہور میں پنجاب کے وسطی اضلاع فیصل آباد، گجرات اور حافظ اباد سے تعلق رکھنے والے سماجی و سیاسی شخصیات سابق وفاقی وزیر رانا فاروق سعید خان، تنویر اشرف کائرہ، بلال فاروق، عمر فاروق، اسامہ فاروق، علی جعفر، اور حرا تنویر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان نسل ہمارا سرمایہ ہے۔ ان کی تعلیم، تربیت اور شراکت سے ہی ایک خوشحال پاکستان کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔ وفاق کی سطح پر تمام اکائیوں کو ساتھ لے کر چلنا، صوبوں کے ساتھ تعاون کو فروغ دینا  اور شہریوں کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانا ملکی مفاد کا تقاضا ہے۔ وفد نے صدر مملکت کو فیصل آباد، گجرات اور حافظ آباد سمیت وسطی پنجاب کے دیگر اضلاع کے عوام کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔ دریں اثنا رکن پنجاب اسمبلی انعام لالیکا، چوہدری اویس، پیپلز پارٹی کے رہنما نوازش علی پیرزادہ، میاں عامر، اتحاد ملازمین او جی ڈی سی ایل کے صدر زاہد بھٹو اور مائرہ ہاشمی پر مشتمل وفد نے بھی گورنر ہاس لاہور میں صدر پاکستان سے ملاقات کی جس میں ملک کے مختلف سماجی و سیاسی مسائل، صوبوں کے درمیان تعاون، اور نوجوانوں کے مواقعاور تنخواہ دار و محنت کش طبقے کو درپیش مشکلات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان کی ترقی اور استحکام کے لیے ضروری ہے کہ تمام شعبے اور تمام سیاسی و سماجی قوتیں مل کر کام کریں، ہم سب کا مقصد عوام کی خدمت اور ملک کی بہتری ہونا چاہیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی

فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔

کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔

کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔

حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔

اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔

 

متعلقہ مضامین

  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے