سیالکوٹ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 مئی2025ء) حکومتی اتحادی پیپلز پارٹی نے ہی ن لیگ پر پری پول دھاندلی کا الزام لگا دیا، سیالکوٹ ضمنی الیکشن میں صوبائی حکومت کی مبینہ پری پول دھاندلی سے متعلق پیپلز پارٹی نے الیکشن کمیشن کو خط لکھ دیا۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی نے پنجاب اسمبلی حلقہ 52 سیالکوٹ کے ضمنی الیکشن کے معاملے پر الیکشن کمیشن کو خط لکھ دیا۔

پی پی کے سیکریٹری اطلاعات وسطی پنجاب شہزاد سعید چیمہ نے الیکشن کمیشن کو لکھے خط میں کہا ہے کہ الیکشن کمیشن پی پی 52 سیالکوٹ کے ضمنی الیکشن میں ن لیگ کی انتخابی دھاندلیوں کا فوری نوٹس لے۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ الیکشن شیڈول کے بعد صوبائی حکومت کے ترقیاتی کاموں کا اعلان ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے۔

(جاری ہے)

شہزاد سعید چیمہ نے یہ بھی کہا ہے کہ الیکشن کمیشن پولنگ ڈے پر صاف شفاف، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ الیکشن یقینی بنائے۔

پی پی 52سیالکوٹ میں یکم جون کو منعقد ہونے والے ضمنی انتخاب کے حوالے سے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی شکایت پرالیکشن کمیشن نے سخت ہدایات جاری کر دیں۔ صوبائی الیکشن کمشنر پنجاب کی جانب سے پنجاب حکومت کو خط ارسال کیا گیا جس میں انتخابی حلقہ پی پی 52سیالکوٹ کے حوالے سے ہدایات جاری کی گئیں کہ مذکورہ حلقے میں پنجاب حکومت کی جانب سے کسی بھی ترقیاتی سکیم کا اجرا نہیں کیا جائیگا۔

حلقہ پی پی 52میں ضمنی انتخاب کے انعقاد تک صوبائی حکومت کسی بھی ترقیاتی کام کا اعلان اور تشہیر نہیں کرے گی۔ اس ضمن میں صوبائی الیکشن کمشنر پنجاب کی جانب سے صوبائی حکومت کو الیکشن کمیشن کی وا ضح اور سخت ہدایات بذریعہ خط جاری کر دی گئی ہیں۔صوبائی الیکشن کمشنر پنجاب نے ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر کو ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کی ہدایت کی اور اس نوعیت کے تمام بینرز کو فوری اتار نے کے احکامات جاری کئے۔

ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر اور مانیٹرنگ ٹیموں نے حلقے سے ایسے تمام بینرز کو فوری طور پر ہٹا دیا۔علاوہ ازیں صوبائی الیکشن کمشنر نے متعلقہ ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر اور مانیٹرنگ ٹیموں کو ہدایات جاری کیں کے ضمنی انتخاب کے انعقاد کے ان آخری دنوں میں چوکس و چوکنا رہیں اور امیدواران کی انتخابی مہم کو مانیٹر کریں۔ ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔ واضح رہے کہ پی پی 52 سیالکوٹ میں ضمنی الیکشن یکم جون کو ہو گا۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے صوبائی الیکشن کمشنر پیپلز پارٹی نے صوبائی حکومت الیکشن کمیشن ضمنی الیکشن ضابطہ اخلاق

پڑھیں:

شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری

فوٹو: فائل

وزیراعظم اور نائب وزیراعظم سمیت مختلف اعلیٰ حکومتی شخصیات کو 21 قیمتی تحائف ملے، کابینہ ڈویژن نے اپریل تا جون توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری کردیا۔ 

کابینہ ڈویژن کے مطابق وزیراعظم اور نائب وزیراعظم توشہ خانہ تحائف وصول کرنے والوں میں شامل ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کو ایک شوگر باؤل، قیمتی قلم، مسجد نبویﷺ کا ماڈل، شیلڈ اور ٹائی بطور تحفہ ملی۔

دستاویز کے مطابق وزیراعظم کو چینی خلائی اسٹیشن کا ماڈل، ایک کپ، گھڑی اور شیلڈ بھی بطور تحفہ ملی۔ 

دستاویز کے مطابق نائب وزیراعظم کو چمڑے سے بنا چینی بیلٹ، مصری اسٹیچو کا ماڈل اور کف لنکس بطور تحفہ ملے۔ 

دونوں اعلیٰ ترین حکومتی شخصیات نے حاصل ہونے والے تحائف توشہ خانہ میں جمع کرا دیے۔ کابینہ ڈویژن کے مطابق وزیراعظم اور نائب وزیراعظم کو ملنے والے تحائف کی قیمتوں کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری