بنگلا دیش میں ایک بار پھر احتجاجی مظاہرے شروع ، فوری الیکشن کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, May 2025 GMT
بنگلا دیش میں ایک بار پھر احتجاجی مظاہرے شروع ، فوری الیکشن کا مطالبہ WhatsAppFacebookTwitter 0 29 May, 2025 سب نیوز
ڈھاکا(آئی پی ایس) بنگلا دیش میں نئے الیکشن کا مطالبہ لے کر اپوزیشن جماعتیں سڑکوں پر آگئی ہیں۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق ڈھاکا میں سابق بنگلادیشی وزیراعظم خالدہ ضیا کی بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی نے ایک بڑی ریلی نکالی جس میں ہزاروں افراد شریک تھے۔ بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی نے عبوری حکومت کے سربراہ ڈاکٹر یونس سے رواں سال دسمبر میں الیکشن کرانے کا مطالبہ کیا۔
خیال رہے کہ بی این پی کی جانب سے یہ ریلی ایسے وقت میں نکالی گئی جب بنگلا دیش کے آرمی چیف کی جانب سے بھی دسمبر میں الیکشن کرانے کا مطالبہ سامنے آنے کی خبریں ہیں۔خبر ایجنسی کے مطابق ڈاکٹر یونس پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ الیکشن جون 2026 میں ہوں گے۔
واضح رہے گزشتہ سال اگست میں طلبہ تحریک کے بعد اس وقت کی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد بھارت فرار ہو گئی تھیں اور ڈاکٹر محمد یونس نے بنگلادیش کے عبوری سربراہ کا عہدہ سنبھالا تھا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپی ٹی آئی میں کشمکش ، حکمت عملی کا فقدان ہے اور ورکرز میں لاوا پک رہا ہے،سنیئر رہنما شوکت یوسفزئی پی ٹی آئی میں کشمکش ، حکمت عملی کا فقدان ہے اور ورکرز میں لاوا پک رہا ہے،سنیئر رہنما شوکت یوسفزئی فرانسیسی کمپنی ڈسالٹ اور بھارتی حکومت کے درمیان رافیل کی کارکردگی پر شدید اختلافات پیدا ہو گئے بھارتی ریاستی دہشت گردی کے مزید شواہد منظر عام پر آگئے، دہشتگرد ڈاکٹر عبدالروف کے افغانستان میں موجودگی کے شواہد پیش پی ٹی آئی نے عمران خان کی کال پر تحریک کی منصوبہ بندی شروع کردی،ہری پور کے پہاڑوں میں ٹینٹ ویلج لگانے کا فیصلہ شوگر ملز کی جانب سے چینی کی قیمتوں میں عارضی کمی کا اعلان عالمی بینک کا پاکستان کو 40ارب ڈالرز کی فراہمی کا اعلان، عمل درآمد فریم ورک پر کام شروعCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: بنگلا دیش کا مطالبہ
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔