سویڈن میں ویزہ بحالی کے بعد پاکستانیوں کے لیے تعلیم و روزگار کے نئے امکانات
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
اسلام آباد میں سویڈن کے سفارتخانے کی جانب سے ویزہ سروسز کی مکمل بحالی کے بعد پاکستانی شہریوں کے لیے یورپ کے ترقی یافتہ ملک سویڈن میں تعلیم، روزگار اور خاندانی روابط کے حوالے سے نئی راہیں کھل گئی ہیں۔
یہ پیشرفت 2 جولائی 2025 کو پاکستان اور سویڈن کی وزارت خارجہ کے درمیان اسٹاک ہوم میں ہونے والی دو طرفہ سیاسی مشاورت کے بعد سامنے آئی، جس میں سویڈن نے اسلام آباد میں ویزہ خدمات کی مکمل بحالی کا اعلان کیا۔ اب پاکستانی شہری 7 جولائی 2025 سے شینجن ویزے کے تحت 90 دن کے قیام کے لیے وزٹ ویزے سمیت تمام اقسام کے ویزہ درخواستیں براہِ راست اسلام آباد میں دے سکتے ہیں۔
2 سالہ تعطل کے بعد سہولت کی بحالیاس سے قبل سیکیورٹی وجوہات کے باعث سویڈن نے پاکستان میں اپنا سفارتخانہ بند کر دیا تھا، جس کے بعد ویزہ پراسیسنگ بھی معطل رہی۔ اس دوران پاکستانی شہریوں کو امیگریشن ویزہ کے لیے ایتھوپیا اور وزٹ ویزہ کے لیے تھائی لینڈ جانا پڑتا تھا، جو مہنگا، وقت طلب اور پیچیدہ عمل تھا۔
سویڈن میں مقیم معروف پاکستانی سماجی رہنما عارف محمود کسانہ کے مطابق، اب اسلام آباد میں سویڈن کے سفارتخانے نے تمام اقسام کے ویزوں بشمول اسٹڈی، ورک پرمٹ، فیملی ری یونین، بزنس اور وزٹ کی درخواستیں لینا دوبارہ شروع کر دی ہیں، جو ہزاروں پاکستانیوں کے لیے ایک بڑی خوشخبری ہے۔
روزگار کے مواقع: آئی ٹی سے لے کر نرسنگ تکعارف محمود کسانہ نے بتایا کہ سویڈن میں ہنر مند پاکستانیوں کے لیے مختلف شعبوں میں وسیع مواقع موجود ہیں۔ خاص طور پر آئی ٹی، انجینئرنگ، نرسنگ، صحت، بزرگوں کی دیکھ بھال (Elderly Care) ، اور لاجسٹکس کے شعبوں میں افراد کی شدید قلت ہے۔ اگر پاکستانی نوجوان ان شعبوں میں مہارت رکھتے ہیں اور سویڈش یا انگریزی زبان میں بات چیت کر سکتے ہیں، تو ان کے لیے کامیابی کے دروازے کھلے ہیں۔
مزید پڑھیں: سویڈن کا پاکستانیوں کے لیے ویزا سروس بحال کرنے کا اعلان
سویڈن کی حکومت ورک پرمٹ کے حصول کے طریقہ کار کو مزید آسان بنا رہی ہے، اور پاکستانی تارکین وطن ان شعبوں میں بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔
تعلیم: عالمی معیار، انگریزی پروگرامز اور اسکالرشپسسویڈن کی یونیورسٹیاں دنیا بھر میں اعلیٰ تعلیمی معیار کی حامل سمجھی جاتی ہیں، اور یہاں متعدد ماسٹرز اور پی ایچ ڈی پروگرامز انگریزی زبان میں دستیاب ہیں۔ پاکستانی طلبا کے لیے اسکالرشپ کے کئی مواقع موجود ہیں جن میں Swedish Institute Scholarships سرفہرست ہے۔
عارف محمود کسانہ کے مطابق، سویڈن میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبا کو جزوقتی ملازمت کی اجازت ہوتی ہے، جو انہیں خودمختاری دیتی ہے۔ تعلیم مکمل ہونے کے بعد سویڈن کی حکومت طلبا کو ملازمت تلاش کرنے کے لیے قیام میں توسیع کی سہولت بھی فراہم کرتی ہے۔
خلاصہ: ترقی کی راہیں کھل گئیںسویڈن میں ویزہ سہولیات کی بحالی پاکستانی طلبا، پیشہ ور افراد اور خاندانوں کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ یہ نہ صرف تعلیمی، سماجی اور اقتصادی مواقع کی طرف ایک مثبت قدم ہے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے کا بھی باعث بنے گا۔
عارف کسانہ نے کہا کہ اگر پاکستانی نوجوان دیانت، محنت اور مہارت کے ساتھ آگے بڑھیں تو سویڈن میں ان کے لیے ترقی کی بہت وسیع گنجائش موجود ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستانیوں کے لیے اسلام آباد میں سویڈن میں سویڈن کی کے بعد
پڑھیں:
وفاقی بجٹ 2026-27 میں شعبۂ تعلیم کے نئے ترقیاتی منصوبے بڑی حد تک نظرانداز
وفاقی بجٹ 2026-27 میں شعبۂ تعلیم کے نئے ترقیاتی منصوبے بڑی حد تک نظرانداز ہونے کا خدشہ ہے جب کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن اور وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے صرف 5 نئے ترقیاتی منصوبے سرکاری شعبہ ترقیاتی پروگرام میں شامل ہیں۔
ذرائع نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے دوران تعلیم کے شعبے کے لیے مجموعی طور پر 77 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز مختص کرنے کی تجویز ہے، ہائر ایجوکیشن کمیشن کے لیے 41 ارب 19 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، یہ رواں مالی سال کے مقابلے میں صرف ایک ارب 71 کروڑ روپے زیادہ ہیں۔
ذرائع نے کہنا تھا کہ دوسری جانب وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کو ترقیاتی منصوبوں کے لیے 36 ارب روپے ملنے کی تجویز دی گئی ہے، وفاقی وزارتِ تعلیم کے تحت آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، چترال اور سندھ میں دانش اسکولوں کے لیے آئندہ مالی سال میں 4 ارب 60 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم یوتھ اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے 3 ارب 29 کروڑ روپے جبکہ پاکستان ایجوکیشن اینڈومنٹ فنڈ کے لیے 3 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے، اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے 2 ارب 61 کروڑ روپے بھی سرکاری شعبہ ترقیاتی پروگرام کا حصہ ہوں گے۔
ہائر ایجوکیشن کمیشن کے 3 نئے منصوبوں کے لیے صرف 30 کروڑ روپے بطور ٹوکن رقم مختص کرنے کی تجویز ہے،41 ارب روپے سے زائد رقم کمیشن کے 135 جاری منصوبوں پر خرچ کی جائے گی، وفاقی وزارتِ تعلیم کے 2 نئے منصوبوں میں ڈیجیٹل لرننگ اور رول آؤٹ آف میٹرک ٹیک منصوبے بھی شامل ہیں، ان منصوبوں کے لیے 60، 60 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع نے کہا کہ وزارتِ تعلیم اپنے 31 جاری ترقیاتی منصوبوں پر 34 ارب 80 کروڑ روپے خرچ کرے گی، مجموعی طور پر تعلیم کے شعبے میں نئے منصوبوں کے مقابلے میں جاری منصوبوں کو زیادہ ترجیح دی گئی ہے۔