اساتذہ قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ، کشمیر پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا تعلیمی ماہرین سے خطاب
اشاعت کی تاریخ: 29th, May 2025 GMT
چیف آف آرمی سٹاف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نشانِ امتیاز (ملٹری)، نے مختلف جامعات کے وائس چانسلرز، پرنسیپلز اور سینئر اساتذہ کرام سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کو پاکستان کا سب سے بڑا سرمایہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ آج جو کچھ بھی ہیں، اپنے والدین اور اساتذہ کرام کی بدولت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی اگلی نسلوں کی کردار سازی اساتذہ کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اساتذہ کو چاہیے کہ وہ پاکستان کی کہانی اپنی آئندہ نسلوں تک پہنچائیں۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ “معرکہ حق” اس بات کا ثبوت ہے کہ جب قوم ایک آہنی دیوار کی مانند متحد ہو جائے تو دنیا کی کوئی طاقت اسے شکست نہیں دے سکتی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور اس پر کوئی بھی سودا ممکن نہیں۔ پاکستان کبھی بھی کشمیر کو نہیں بھولے گا اور نہ ہی ہندوستان کی اجارہ داری کو تسلیم کرے گا۔ پانی پاکستان کی ریڈ لائن ہے اور 24 کروڑ پاکستانیوں کے اس بنیادی حق پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے کئی دہائیوں سے کشمیر کے مسئلے کو دبانے کی کوشش کی، لیکن اب یہ ممکن نہیں رہا۔ دہشت گردی بھارت کا اندرونی مسئلہ ہے جس کی جڑ اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں پر ظلم اور تعصب میں ہے، جبکہ کشمیر ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے۔
بلوچستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں کے دہشت گرد فتنہ الہندوستان ہیں اور ان کا بلوچ عوام سے کوئی تعلق نہیں۔ چیف آف آرمی سٹاف نے کہا کہ ہمیں پاکستان کو ایک ایسی مضبوط ریاست بنانا ہے جہاں تمام ادارے آئین و قانون کے مطابق، بغیر کسی سیاسی دباؤ، ذاتی مفاد یا مالی فائدے کے، صرف عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کام کریں۔
انہوں نے ریاست کے خلاف بیانیہ بنانے والوں کی سختی سے نفی کرنے پر زور دیا اور کہا کہ یہ محفوظ دھرتی ہماری افواج کی قربانیوں کا نتیجہ ہے۔ شرکاء نے سوال و جواب کے سیشن میں واضح کیا کہ انہیں پاکستان اور اپنی مسلح افواج پر فخر ہے اور وہ ہمیشہ ان کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: پاکستان کی نے کہا کہ انہوں نے ہے اور
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔