چین ہمیشہ بحرالکاہل جزائر ممالک کو اچھا شراکت دار سمجھتا ہے، چینی وزیر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, May 2025 GMT
چین ہمیشہ بحرالکاہل جزائر ممالک کو اچھا شراکت دار سمجھتا ہے، چینی وزیر خارجہ WhatsAppFacebookTwitter 0 30 May, 2025 سب نیوز
بیجنگ :سی پی سی کی مرکزی کمیٹی کے پولیٹیکل بیورو کے رکن اور وزیر خارجہ وانگ ای نے شیا من شہر میں کریباتی کے صدر اور وزیر خارجہ ماماؤ کے ساتھ چین-بحرالکاہل ک جزائر ممالک کے وزرائے خارجہ کے تیسرے اجلاس کی مشترکہ صدارت کی۔جمعہ کے روز چینی میڈیا نے بتایا کہ وانگ ای نے کہا کہ اس سال بحرالکاہل جزائر ممالک کے ساتھ چین کے سفارتی تعلقات کی 50 ویں سالگرہ ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ بین الاقوامی صورتحال کیسے تبدیل ہوتی ہے ، چین ہمیشہ بحرالکاہل جزائر ممالک کو اچھا دوست ، اچھا شراکت دار اور اچھا بھائی سمجھتا ہے۔
صدر شی جن پھنگ کی جانب سے تجویز کردہ “چار مکمل احترام” بحرالکاہل جزائر ممالک کے ساتھ چین کے تعلقات کے بنیادی اصول ہیں۔ صدر شی جن پھنگ اور بحرالکاہل جزائر ممالک کے رہنماؤں کی اسٹریٹجک رہنمائی کے تحت چین بحرالکاہل جزائر ممالک کی جامع اسٹریٹجک شراکت داری نے نئی قوت کا مظاہرہ کیا ہے، نئی کامیابیاں حاصل کی ہیں اور ایک نئی سطح پر پہنچ گئی ہے۔وانگ ای نے چین بحرالکاہل جزائر ممالک ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کے لئے چھ تجاویز پیش کیں:سب سے پہلے، باہمی احترام پر عمل کریں.
تمام شرکاء نے صدر شی جن پھنگ کے بنی نو ع انسان کے ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کے وژن، “چار مکمل احترام” کے اصول اور تین عالمی انیشی ایٹوز کو سراہا اور جزائر ممالک کی ترقی کے لئے طویل مدتی قابل قدر حمایت پر چین کا شکریہ ادا کیا۔تمام فریقین نے چین – بحرالکاہل جزائر ممالک کے وزرائے خارجہ کے تیسرے اجلاس کے مشترکہ اعلامیے کو متفقہ طور پر منظور کیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرتاجکستان ،’’وسطی ایشیا کا سفر‘‘نامی تقریب کا انعقاد تاجکستان ،’’وسطی ایشیا کا سفر‘‘نامی تقریب کا انعقاد ہانگ کانگ خصوصی انتظامی علاقے میں ثالثی کے لیے بین الاقوامی عدالت کے کنونشن پر دستخط کی تقریب کا انعقاد وزارت خزانہ نے نئے بجٹ سے قبل ہی مہنگائی میں اضافے کا خدشہ ظاہر کر دیا شوگر ملز کی جانب سے چینی کی قیمتوں میں عارضی کمی کا اعلان عالمی بینک کا پاکستان کو 40ارب ڈالرز کی فراہمی کا اعلان، عمل درآمد فریم ورک پر کام شروع وفاقی بجٹ پیش کیے جانے کی تاریخ میں دوسری بار تبدیلی کا امکانCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: بحرالکاہل جزائر جزائر ممالک ممالک کے
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری
8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔
????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States
????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026
آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے
بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی