امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (FDA) نے موڈرنا کی نئی کووِڈ-19 ویکسین “mNEXSPIKE” کی منظوری دے دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کورونا وبا کے باعث دنیا میں اوسط عمر کتنی گھٹ گئی؟

یہ ویکسین 65 سال اور اس سے زائد عمر کے افراد، اور 12 سے 64 سال کی عمر کے ایسے افراد کے لیے منظور کی گئی ہے جو کسی ایک یا زیادہ بنیادی طبی مسائل کا شکار ہیں، جو انہیں کووِڈ-19 سے شدید بیماری کے خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔

یہ منظوری اس وقت دی گئی ہے جب FDA نے ویکسین کی منظوری کے معیار کو سخت کر دیا ہے، خاص طور پر صحت مند بالغوں کے لیے، جن کے لیے اب ویکسین کی منظوری سے قبل مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کورونا کا خدشہ: چمگادڑ پھیلاؤ کا سبب بن سکتے ہیں، نئی تحقیق

mNEXSPIKE  ویکسین میں موڈرنا کی اصل ویکسین Spikevax کے مقابلے میں کم خوراک استعمال کی گئی ہے، جو صرف پانچواں حصہ ہے، اور یہ بہتر مدافعتی ردعمل کے لیے تیار کی گئی ہے۔

موڈرنا کے سی ای او، اسٹیفان بینسل کے مطابق COVID-19  اب بھی ایک سنگین خطرہ ہے، اور mNEXSPIKE کی منظوری ان افراد کے لیے ایک اہم نیا ذریعہ فراہم کرتی ہے جو شدید بیماری کے خطرے میں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:کورونا وائرس ممکنہ طور پر لیب سے پھیلا، امریکی کانگریس کمیٹی کا انکشاف

یہ ویکسین ریفریجریٹر میں محفوظ کی جا سکتی ہے، جو اس کی شیلف لائف کو بڑھاتی ہے اور تقسیم کو آسان بناتی ہے، خاص طور پر ترقی پذیر ممالک میں جہاں سپلائی چین کے مسائل ویکسینیشن مہمات میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔

FDA کی منظوری 11,400 افراد پر مشتمل ایک مطالعے کی بنیاد پر دی گئی، جس میں mNEXSPIKE کو محفوظ اور مؤثر پایا گیا، اور بعض معاملات میں یہ اصل ویکسین سے بھی بہتر ثابت ہوئی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

mNEXSPIKE کورونا نئی ویکسین.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: کورونا نئی ویکسین کی منظوری کے لیے گئی ہے

پڑھیں:

کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار

ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔

ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • کوہاٹ: ڈیرہ اسماعیل خان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ، بچے سمیت 3 افراد قتل 
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ