’’جسٹن بے بیز‘‘ کی دُہائی: شہرت کے باوجود خاندانی پس منظر کا طعنہ کیوں؟
اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT
کئی برس پہلے جسٹن بیبر کے مقبول گانے "Baby” کو اپنی آواز میں گا کر عالمی سطح پر شہرت حاصل کرنے والی پاکستانی گلوکار بہنیں، ثانیہ اور مقدس، آج بھی انڈسٹری میں امتیازی سلوک کا سامنا کرنے پر دل گرفتہ ہیں۔
حال ہی میں ایک ٹی وی شو میں شرکت کے دوران دونوں بہنوں نے اپنی زندگی کے نشیب و فراز اور فنی سفر کے کئی اَن سنے پہلوؤں پر گفتگو کی۔
جسٹن بے بیز نے بتایا کہ اگرچہ وہ آج میوزک کی دنیا میں ایک پہچان رکھتی ہیں، لیکن انہیں اب بھی لوگوں کی طرف سے خاندانی پس منظر کا طعنہ سننا پڑتا ہے۔ مقدس نے شکوہ کیا کہ ان کی کامیابی کے باوجود معاشرہ انہیں ان کے پس منظر سے جوڑ کر دیکھتا ہے اور یوں ان کے ساتھ تفریق روا رکھی جاتی ہے۔ ان کے مطابق یہ امتیازی رویہ صرف محسوس ہی نہیں ہوتا، بلکہ وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ چکی ہیں اور کانوں سے سن چکی ہیں۔ یہی وہ رویہ ہے جو ان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔
پروگرام میں دونوں نے بتایا کہ وہ ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں لیکن قسمت نے ان کا ساتھ دیا اور خدا کے کرم سے آج وہ ایک باعزت مقام پر ہیں۔ ثانیہ کے دو بچے ہیں، جن میں بڑا بیٹا آٹھ سال کا ہے، جبکہ مقدس تاحال ماں نہیں بن سکیں۔ دونوں نے بتایا کہ ان کی شادیاں کئی سال قبل خاندان کی رضامندی سے ہوئیں۔
جسٹن بے بیز نے یہ خواہش بھی ظاہر کی کہ وہ چاہتی ہیں کہ ان کی شہرت کا سفر اتنا بلند ہو کہ ان کے والدین اپنی زندگی میں ان کی کامیابی کا مشاہدہ کر سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ والدین کی عمر زیادہ ہوچکی ہے اور وہ ان کی موجودگی میں کامیابی کی اونچائیوں کو چھونا چاہتی ہیں۔
یاد رہے کہ 2015 میں جسٹن بیبر کے گانے "Baby” کی مقامی انداز میں گائی گئی ویڈیو نے ان دونوں بہنوں کو راتوں رات مشہور کر دیا تھا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اس ویڈیو کے بعد انہیں کوک اسٹوڈیو سمیت مختلف میوزک پلیٹ فارمز پر گلوکاری کے مواقع ملے، اور تب سے یہ دونوں ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے میوزک انڈسٹری کا حصہ ہیں۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔