اسحاق ڈار کے رابطے، افغانستان، برطانیہ کیساتھ تعاون بڑھانے پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT
اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا افغان ہم منصب امیر خان سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے جس میں دونوں جانب سے باہمی اعتماد کے فروغ کے لیے قریبی تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق دو روز قبل وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے افغانستان میں اپنے سفارتخانے کو سفیر کی سطح پر اپ گریڈ کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے جواب میں افغانستان نے بھی گزشتہ روز اسلام آباد میں تعینات اپنے ناظم الامور کو سفیر کی سطح تک بڑھا دیا۔ انہوں نے بتایا کہ افغان وزیر خارجہ نے پاکستان کی جانب سے سفارتی تعلقات کو سفیر کی سطح تک بڑھانے کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان اعتماد اور تعاون کے ایک نئے باب کی نشاندہی کرتا ہے، یہ دوطرفہ تعلقات میں ایک انتہائی مثبت پیش رفت ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق امیر خان متقی نے اسحاق ڈار کو بتایا کہ افغانستان نے بھی اسی نوعیت کا قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے اس پیشرفت کو دونوں ممالک کے تعلقات کے لیے مثبت اور خوش آئند قرار دیا۔ نائب وزیر اعظم، وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔ دونوں رہنمائوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سمیت کثیر الجہتی فورمز میں دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسحٰق ڈار اور ڈیوڈ لیمی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سمیت کثیر الجہتی فورمز میں دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے پر تبادلہ خیال کے علاوہ رابطے میں رہنے اور رواں ماہ نیویارک میں اقوام متحدہ کے اعلیٰ سطح کے اجلاسوں کے موقع پر ملاقات کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار
پڑھیں:
بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
اسلام آباد:وفاقی بجٹ میں 220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے، تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم لانے کی تجاویز ہیں، بچوں کے فارمولا دودھ، گھی، کوکنگ آئل سمیت درجنوں اشیائے خورونوش سیلز ٹیکس کے تیسرے شیڈول میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق بجٹ میں سالانہ 20 کروڑ روپے سیل پر 25 ہزار روپے فکس ٹیکس دینا ہوگا جس پر تاجروں کو آڈٹ سے استثنیٰ دیا جاسکتا ہے، آئی ایم ایف نے جی ایس ٹی کی شرح 18 سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے پر زور دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اگلے مالی سال کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے لیے بجٹ میں اضافی ٹیکس اقدامات شامل ہوں گے، نئے بجٹ میں سپر ٹیکس میں ایک سے دو فیصد تک کمی کی بھی تجویز ہے۔
بجٹ میں شیر خوار بچوں کے فارمولا دودھ، کیچپ، ویجیٹیبل گھی، کوکنگ آئل، چائے کی پتی، چینی، خشک دودھ اور اس سے تیار شدہ مصنوعات سمیت درجنوں اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء پر سیلز ٹیکس وصولی کے لیے پرچون قیمت پرنٹ کرنے کا لازمی قرار دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے لیے ان درجنوں اشیاء کو تیسرے شیڈول میں شامل کیا جائے گا۔
علاوہ ازیں جن اشیائے خوردونوش اور اشیائے ضروریہ پر بھاری ٹیکس عائد ہے اسے اگلے بجٹ میں بھی برقرار رکھے جانے کا امکان ہے جس سے ان اشیاء کے مہنگے ہونے کا خدشہ ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبلڈ کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر پانچ روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ میں کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے جس کیلئے ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
دریں اثنا وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔