Juraat:
2026-06-03@04:41:13 GMT

محکمہ خوراک، گندم کی خریداری میں اربوں روپے کا اسکینڈل

اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT

محکمہ خوراک، گندم کی خریداری میں اربوں روپے کا اسکینڈل

 

سابق سیکریٹری خوراک، ڈپٹی ڈائریکٹر کراچی مقصود احمد، نصر اللہ چانڈیو اور افسران پر الزامات
حکام سندھ کے گوداموں میں گندم کی 90لاکھ بوریوں کی موجود گی پر غلط بیانی کرتے رہے

محکمہ خوراک سندھ میں گندم کی خریداری کے دوران اربوں روپے کا اسکینڈل سامنے آگیا، نیب اور سی ایم آئی ٹی میں تحقیقات جاری، سابق سیکریٹری خوراک، ڈپٹی ڈائریکٹر کراچی مقصود احمد، نصر اللہ چانڈیو سمیت دیگر افسران پر کرپشن کے الزامات، کرپشن کی شکایت کرنے والے فوڈ انسپکٹر کے خلاف محکمہ میں انکوائری شروع۔ جرأت کو موصول دستاویز کے مطابق محکمہ خوراک سندھ میں سال 2022 سے لے کر سال 2023 تک گندم گندم کی خریداری میں اربوں روپے کرپشن کے الزامات سامنے آئے ہیں، لاڑکانہ میں تعینات انسپکٹر بشیر مینگل نے وفاقی حکومت کے اعلیٰ حکام کو شکایت کی کہ سال 2018-19 کے دوران محکمہ خوراک سندھ کے افسران وفاق، پاسکو اور ٹی سی پی سے غلط بیانی کرتے رہے کہ سندھ کے گوداموں میں گندم کی 90لاکھ بوریاں موجود ہیں، جبکہ محکمہ خوراک نے گوداموں کے کرائے کی مد میں کروڑوں روپے ادا کئے ۔ سال 2021-22 اور سال 2022-23 کے دوران محکمہ خوراک کے افسران نے 100 ارب روپے کی کرپشن کی ہے ، فوڈ انسپکٹر نے دعویٰ کیا ہے کہ 15اکتوبر سے 30 جون تک سبسڈی کے نام پر فلور ملز کو کروڑوں روپے سبسڈی جاری ہوتی ہے لیکن عوام کو سبسڈی کا فائدہ نہیں ہوتا۔ فوڈ انسپکٹر کی شکایت پر وزیراعلیٰ انسپکشن ٹیم اور نیب نے انکوائری شروع کرتے ہوئے سیکریٹری خوراک کو لیٹر ارسال کر کے سندھ کے گوداموں میں موجود گندم کے ذخائر کے تفصیلات طلب کیں۔ فوڈ انسپکٹر کے مطابق گندم کے کرپشن اسکینڈل میں ایک سابق سیکریٹری خوراک، ڈپٹی ڈائریکٹر کراچی مقصود احمد، اسسٹنٹ ڈائریکٹر فوڈ لاڑکانہ و حیدرآباد نصر اللہ چانڈیو، اسسٹنٹ ڈائریکٹر سکھر قریب اللہ سومرو، اسسٹنٹ ڈائریکٹر بشیر احمد شیخ، ڈی ایف سی شکارپور دلشاد سومرو، ڈی ایف سی وشن داس اور دیگر افسران ملوث ہیں۔ جبکہ محکمہ خوراک کے سیکریٹری ناصر عباس سومرو نے محکمہ میں کرپشن کی نشاندہی کرنے والے انسپکٹر کو شوکاز نوٹس جاری کر کے انکوائری کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

پڑھیں:

سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان

فائل فوٹو

سندھ، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے مختلف شہروں میں تیز ہوائیں، طوفان اور بارش ہوئی ہے جس سے متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوگئی۔

خیبرپختونخوا میں مختلف حادثات میں 20 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ 

سندھ کے علاقے تھرپارکر میں بارش، سکھر میں ژالہ باری، لاڑکانہ، حیدرآباد، مٹیاری، ہالہ، نیو سعیدآباد، شکارپور اور کندھ کوٹ میں مٹی کا طوفان آیا ہے۔

اسلام آباد، لاہور، جہلم، سرگودھا، گجرات، رحیم یار خان، چنیوٹ سمیت پنجاب کے کئی علاقوں میں بارش ہوئی۔

تیز ہوا کے باعث لوئر کرم میں بجلی کی مین لائن کا ٹاور گر گیا، پاراچنار اور اس کے ملحقہ علاقوں اور پاک افغان سرحدی دیہات کی بجلی بند ہوگئی۔

متعلقہ مضامین

  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • چلاس: پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کو دیامر میں روک لیا گیا
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے