عوامی ایکشن کمیٹی کے گرفتار قائدین ہمارے ہیروز ہیں، آغا راحت حسین
اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT
مرکزی امامیہ جامع مسجد کے امام اور معروف عالم دین سید راحت حسین الحسینی نے سکردو میں تکریم شہداء کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے ہیروز کو گرفتار کیا گیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ہمیشہ گلگت بلتستان کے حقوق کیلئے آواز بلند کرتے رہتے ہیں۔ متعلقہ فائیلیںاسلام ٹائمز۔ مرکزی امامیہ جامع مسجد کے امام اور معروف عالم دین سید راحت حسین الحسینی نے سکردو میں تکریم شہداء کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے ہیروز کو گرفتار کیا گیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ہمیشہ گلگت بلتستان کے حقوق کیلئے آواز بلند کرتے رہتے ہیں، ان کی گرفتاری ہمارے لیے ٹیسٹ کیس ہے۔ اگر ہم نے آج ان کیلئے آواز بلند نہ کی تو کل سید علی رضوی کو گرفتار کیا جائے گا اور پھر آغا راحت کی بھی باری آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی میں کاظم میثم اور جاوید منوا جیسے قابل افراد آجائیں تو گلگت بلتستان کو اندازہ ہوگا کہ یہ پوسٹ کتنی مضبوط ہے لیکن اسمبلی میں ایسے افراد کو لایا جاتا ہے جو عصا کے سہارے چلیں یا ڈنڈے کے ہانکنے پر چلیں۔ انہوں ںے کہا کہ ایم ڈبلیو ایم نے پاراچنار کے معاملے پر سب سے زیادہ آواز بلند کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔