مصطفیٰ عامر قتل کیس کے مرکزی ملزم ارمغان کے والد کی ضمانت منظور
اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT
کراچی:ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ساؤتھ نے غیر قانونی اسلحہ کیس میں مصطفی عامر قتل کیس کے مرکزی ملزم کے والد کی ضمانت منظور کرلی۔
غیر قانونی اسلحہ کیس میں مصطفی عامر قتل کیس کے مرکزی ملزم ارمغان کے والد کی درخواست ضمانت کی سماعت ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ساؤتھ کی عدالت کے روبرو ہوئی۔
دورانِ سماعت وکیل صفائی خرم اعوان ایڈووکیٹ نے مؤقف دیا کہ مقدمہ جھوٹا ہے، صرف ارمغان کا والد ہونے کی سزادی جارہی ہے۔ ملزم کو کئی مقدمات میں ملوث کردیا گیا ہے۔
بعد ازاں عدالت نے کامران اصغر قریشی کی ایک لاکھ روپے کی ضمانت منظور کرلی۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ ملزم کسی اور مقدمے میں مطلوب نہیں تو اسے رہا کردیا جائے۔
یاد رہے کہ ملزم کامران اصغر قریشی کیخلاف اینٹی وائلنٹ کرائم سیل نے مقدمہ درج کیا تھا۔ استغاثہ کے مطابق ملزم سے غیر قانونی اسلحہ برآمد ہوا۔ملزم کامران اصغر قریشی کیخلاف مجموعی طور پر 4 مقدمات درج ہیں۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث
شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔