Express News:
2026-06-03@04:22:54 GMT

بابر کو غصہ نہ دلائیں

اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT

کراچی:

دنیا میں ہر باپ ہی اپنی اولاد سے بے تحاشا محبت کرتا ہے، اس کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ بہت بڑا آدمی بنے اور اس کیلیے سخت محنت بھی کرتا ہے، البتہ بڑی کامیابی صرف چند فیصد کے حصے میں ہی آتی ہے۔ 

بابر اعظم کے والد اعظم صدیقی اس لحاظ سے خوش قسمت ہیں کہ انھوں نے اپنے بیٹے کو انٹرنیشنل کرکٹر بنانے کیلیے جو تگ و دو کی اس میں کامیاب بھی رہے، کسی انسان کیلیے اس سے بڑی کوئی بات ہو ہی نہیں سکتی کہ اس کا بیٹا بڑی شخصیت بن جائے اور دنیا بھر میں نام کمائے۔ 

زیادہ تر کرکٹرز کو دیکھیں تو ان کے والدین پڑھائی پر توجہ دینے کی تلقین کرتے رہے، البتہ بڑے بھائیوں نے کھیلنے میں مدد دی، یہاں معاملہ الٹ رہا،بابر کے والد نے ان کی بھرپور حوصلہ افزائی کی، میں نے ایسے کرکٹرز بھی دیکھے جو ساتھی کے ہوٹل روم میں آ کر کہتے تھے کہ ’’یار میرا باپ مجھے بہت تنگ کر رہا ہے، اسپیس ہی نہیں دیتا، تیرے پاس فون آئے تو بولنا یہاں نہیں ہوں‘‘ پھر یہی ہوا جب فون آیا تو جھوٹ کہا گیا۔

دوسری جانب بابر جیسے تابعدار بیٹے ہیں جو اب بھی والد سے پوچھے بغیر کوئی بڑا قدم نہیں اٹھاتے، جو کسی کا عروج دیکھے تو زوال آنے پر سب سے زیادہ دکھ اسی کو ہوتا ہے۔ 

بدقسمتی سے بابر اعظم کی کارکردگی اب ماضی جیسی نہیں رہی جس کی وجہ سے وہ قومی ٹیم سے باہر ہوچکے،کپتانی پہلے ہی چھن چکی تھی، پی ایس ایل کا سیزن بھی مایوس کن گذرا، کنگ کا لقب پانے والے بابر کو ایسا دن دیکھنا پڑے گا شاید ہی کسی نے یہ سوچا ہوا۔ 

ظاہر سی بات ہے والد کو اس کا سب سے زیادہ دکھ ہو رہا ہو گا، ابھی انھیں اپنے بیٹے کو سنبھالنا اور سمجھانا چاہیے کہ ہمت نہ ہارو،محنت جاری رکھو، یہ وقت بھی گذر جائے گا، البتہ اعظم صاحب لگتا ہے خود ہی ہمت ہارنے لگے ہیں،کم از کم ان کے سوشل میڈیا پیغامات تو یہی بیان کر رہے ہیں۔ 

کامران اکمل نے یہ بات کہی کہ ’’بابر اعظم اور محمد رضوان کو وائٹ بال کی جگہ صرف ٹیسٹ میں حصہ لینا چاہیے‘‘ وہ پاکستان کی جانب سے 250 سے زائد انٹرنیشنل میچز کھیل چکے اور اپنی رائے کا اظہار کرنے کا مکمل حق رکھتے ہیں، کئی دیگر سابق کرکٹرز نے بھی بابر اور رضوان کے بارے میں ایسی باتیں کی ہیں۔

آپ جانتے ہوں گے بابر کے والد اکمل برادرز کے چچا ہیں لہذا انھیں بھتیجے کا مشورہ پسند نہ آیا اور لمبی چوڑی پوسٹ کر دی، میڈیا میں چچا بھتیجے کی لفظی جنگ کا خاصا چرچا رہا، اس منفی پبلسٹی کا کوئی فائدہ نہ ہوا البتہ فرسٹریشن ظاہر ہو گئی۔ 

بدقسمتی سے ہم کسی کو بہت جلد اوپر پہنچاتے ہیں اور زمین پر واپس لانے میں تو بالکل بھی تاخیر نہیں برتتے، بابر نے اپنی بہترین کارکردگی سے دنیا بھر میں نام کمایا، ہرکھلاڑی کے کیریئر میں بْرا وقت آتا ہے لیکن ان کے والد یا بھائی ناقدین سے لڑنے نہیں لگ جاتے، بابر کو کسی کی ٹویٹ، خبر یا سپورٹ ٹیم میں واپس نہیں لا سکتی، اس کے لیے ان کا بیٹ ہی کافی ہے لیکن متنازع بننے کا کوئی فائدہ نہ ہو گا، ان کی وجہ سے والد بھی ’’منی سیلیبریٹی‘‘ بن چکے ہیں۔

سوشل میڈیا پر ہزاروں فالوورز ہیں، وہ کوئی سخت بات کریں تو میڈیا خبر بنا کر چلا دیتا ہے، اس شہرت کا فائدہ نہیں نقصان ہی ہوگا، لائم لائٹ میں بابر کو ہی رہنے دیں، بطور والد ان کی پریشانی سب سمجھتے ہیں لیکن وہ خود کچھ نہیں کر سکتے، بابر کو ہی ماضی جیسی پرفارمنس سے دوبارہ اوپر آنا ہے۔ 

دراصل سوشل میڈیا نے بھی کھلاڑیوں کے مسائل بڑھائے ہیں، بابر کے نام پر بعض لوگوں نے اتنا کمایا کہ آج بیرون ملک جائیدادوں کے مالک ہیں، یوٹیوب چینلز سے بھی رقوم کمائیں، ایک ’’کرکٹر‘‘ سابق بورڈ چیف تو ان کے پیچھے چھپ کر اپنی خامیاں چھپاتے رہے۔ 

ان سب نے اپنی دکان چمکانے کیلیے بابر کو کرکٹ سے بڑھ کر شخصیت جیسا روپ دیا، کنگ بنا کر پیش کیا، جب تک بیٹ نے ساتھ دیا سب ٹھیک رہا اب کل کے بچے ٹی وی پر کہتے ہیں کہ ’’بابر کی کمی کوئی بھی پوری کر سکتا ہے‘‘۔

وہ بعض لوگوں کی باتوں میں آکر ان تک ہی محدود رہے، حلقہ احباب بڑھانے کی ضرورت نہ سمجھی، بابر تو برانڈ تھے ان کو کیش کر کے وہ لوگ مڈل کلاس سے اپر کلاس بن گئے، بابر اب تنہا ہیں، صرف ان کے والد ہی ساتھ نظر آتے ہیں، بابر نے بیٹ تو بدل لیا اب اردگرد موجود لوگوں کو بھی بدل کر دیکھیں یقینی طور پر فائدہ ہوگا۔ 

چمچہ گیری کر کے آسمان پر چڑھانے والے لوگوں سے اب دور ہوں،والد صاحب یقینی طور پر مخلص ہیں ان کی مشاورت سے آگے بڑھیں لیکن ساتھ انھیں بھی کہہ دیں کہ سوشل میڈیا سے ناطہ توڑ لیں۔

بابر کی حال ہی میں ایک ویڈیو آئی جس میں وہ پرستاروں سے الجھ رہے ہیں ایسے معاملات سے بھی بچنے کی کوشش کریں،لوگ تنگ کرتے ہیں ایسے میں نظرانداز کرنا ہی بہتر حل ہے،مداح بھی انھیں غصہ نہ دلائیں اور کھیل پر فوکس کرنے دیں، بابر سوشل میڈیا واریئرز سے دور رہیں جو اب انھیں محمد حارث اور سلمان علی آغا جیسے کرکٹرز سے بھی لڑانے کی کوشش کر رہے ہیں، فلاں نے ان فالو کر دیا فلاں نے نام نہ لیا، ان باتوں میں پڑ کر کچھ حاصل نہیں ہوگا، صرف کارکردگی سے ہی ایسا جواب آ سکتا ہے جو سب دیکھیں گے۔ 

بدقسمتی سے پی ایس ایل میں بابر کو یہ موقع ملا تھا جس سے وہ فائدہ نہ اٹھا سکے، پاکستان کو موجودہ دور میں جو کرکٹرز ملے بلاشبہ بابر اعظم ان میں بہترین ہیں، انھوں نے ملک کیلیے بڑے کارنامے سرانجام دیے اور وہ بدستور ایسا کر سکتے ہیں، مگر اس کے لیے کھیل پر فوکس رکھیں باقی غیرضروری باتوں کو چھوڑ دیں۔ 

انھیں انا کو بھی پس پشت رکھنا ہوگا، سابق کرکٹرز سے بھی بات کریں تاکہ فارم واپس لانے میں مدد مل سکے،انگلینڈ ہی چلے جاتے جہاں سیزن جاری ہے،اعظم صدیقی صاحب کو بھی سمجھنا چاہیے کہ یہ کوئی فلم نہیں جہاں شاہ رخ خان کی طرح ڈائیلاگ بول دیا کہ ’’ بیٹے کو ہاتھ لگانے سے پہلے باپ سے بات کر‘‘ اصل زندگی میں جب بیٹا مشکل میں پڑا تھا تو بیچارے شاہ رخ بھی خوب پریشان ہو گئے تھے، وہ یہ یاد رکھیں کہ اسٹار بابر ہے وہ نہیں۔ 

لوگوں سے سوشل میڈیا پر بحث نہ کریں، بابر کو مشورے دیں، اب سائیکل نہیں تو مرسیڈیز میں ہی بٹھا کر گراؤنڈ لے جایا کریں جہاں وہ پریکٹس کر کے پہلے والی فارم میں واپس آ سکیں۔

(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سوشل میڈیا فائدہ نہ بابر کو کے والد سے بھی

پڑھیں:

میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت

لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔

منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔

میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔

برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں

مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔

متعلقہ مضامین

  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان