روس کا یوکرائن پر جوابی حملہ، 5افراد ہلاک، بچے بھی شامل، متعدد گھر تباہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT
کیف (اوصاف نیوز) عالمی خبر رساں ادارے روئٹر کے مطابق علاقائی حکام کا کہنا ہے کہ روسی حملوں میں شہر زاپوریزہیا میں 5 افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوگئے ۔
ذرائع کے مطابق روس کی گولہ باری اور فضائی حملوں میں جنوب مشرقی یوکرین کے شہر زاپوریزہیا کے باہر پانچ افراد ہلاک ہوئے جبکہ سومی کے شمال مشرقی علاقے پر ڈرون حملے میں پیر کی صبح کم از کم چھ زخمی ہوئے، جن میں دو بچے بھی شامل ہیں۔
، علاقائی حکام کے مطابق ایوان فیدوروف نے ٹیلی گرام میسجنگ ایپ پر لکھا کہ اتوار کو دیر گئے زاپوریزہیا کے مشرق میں ترنوویٹ گاؤں کو نشانہ بنانے والے روسی گولہ باری کے واقعات میں 6 خواتین ہلاک ہوگئیں۔ ایک دکان اور کئی گھروں کو بری طرح نقصان پہنچا۔
فیدوروف کا کہنا تھا کہ یوکرائن کے قریبی ضلع میں روسی حملے میں ایک گائیڈڈ فضائی بم سے ایک شخص ہلاک ہو گیا۔ روسی حملوں میں کل نو افراد زخمی ہوئے اور ایک نجی گھر تباہ ہو گیا۔سومی کے علاقے میں روسی ڈرون حملے میں زخمی ہونے والوں میں دو بچے بھی شامل ہیں
انہوں نے مزید کہا کہ پورے علاقوں میں کئی عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب روس اور یوکرین دونوں امن مذاکرات کے ایک دور کے لیے ملاقات کرنے والے ہیں، اس جنگ کو ختم کرنے کا راستہ تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کا آغاز روس نے اپنے چھوٹے پڑوسی پر تین سال سے زیادہ عرصہ قبل مکمل حملے کے ساتھ کیا تھا۔
بی آئی ایس پی کا 3 سال سے مستفید ہونیوالے افراد کا ازسر نو سروے کرانے کا فیصلہ
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔