کولوراڈو میں اسرائیلی یرغمالیوں کے حق میں نکالی گئی ریلی پر حملہ، 6 زخمی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT
امریکی ریاست کولوراڈو میں قانون نافذ کرنیوالے اہلکاروں کے مطابق ایک شخص نے ’آزاد فلسطین‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے آگ لگانے والا آلہ ایک ایسے گروپ پر پھینک دیا جو غزہ میں اسرائیلی یرغمالیوں کی طرف توجہ دلانے کے لیے جمع ہوا تھا، اس واقعے میں 6 افراد زخمی ہوئے، جن میں سے کچھ جھلس بھی گئے ہیں۔
اس سلسلے میں گرفتار مشتبہ شخص 45 سالہ محمد صابری سلیمان کو اس حملے کے سلسلے میں الزامات کا سامنا کرنا پڑے گا جس کی ایف بی آئی دہشت گردی کی کارروائی کے طور پر تفتیش کر رہی تھی۔
کولوراڈو کے شہر بولڈر کے مرکز میں واقع 4 بلاک والے علاقے پرل اسٹریٹ پیدل چلنے والے مال میں تشدد کا یہ حالیہ واقعہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کے پس منظر میں سامنے آیا ہے، جو عالمی تناؤ کو ہوا دے رہا ہے اور یہود مخالف جذبات میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔
واضح رہے کہ امریکی حکام کے مطابق میں یہود مخالف تشدد میں ایک ہفتہ قبل ایک شخص نے اسی طرح ’آزاد فلسطین‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے واشنگٹن میں یہودی میوزیم کے باہر اسرائیلی سفارت خانے کے دو ملازمین کو گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔
امریکی میڈیا کے مطابق ایف بی آئی کے ڈینور فیلڈ آفس کے انچارج خصوصی ایجنٹ مارک مائیکلک نے اس واقعہ کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس نوعیت کے حملے ملک بھر میں بہت عام ہوتے جا رہے ہیں۔ ’یہ اس بات کی ایک مثال ہے کہ کس طرح تشدد کے مرتکب ملک بھر کی کمیونٹیز کو دھمکیاں دیتے رہتے ہیں۔‘
امریکی حکام نے بتایا کہ زخمی ہونے والے 6 افراد کی عمریں 67 سے 88 سال کے درمیان ہیں اور جن کے زخموں کی نوعیت سنگین سے معمولی ہیں۔
مظاہرین پر مذکورہ حملہ اس وقت ہوا جب رن فار دی لائیوز نامی رضاکار گروپ کے لوگ غزہ میں موجود اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے اپنے ہفتہ وار مظاہرے کا اختتام کر رہے تھے، جائے وقوعہ سے حاصل ہونے والی ویڈیو میں ایک گواہ کو چیختے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
’وہ وہیں ہے، وہ مولوٹوف کاک ٹیل پھینک رہا ہے‘ ان الفاظ کے ساتھ ایک پولیس افسر اپنی بندوق تانے ایک مشتبہ شخص کی جانب بڑھ رہا ہے جس کے دونوں ہاتھوں میں کنٹینرز ہیں۔
72 سالہ لِن سیگل اتوار کو جمع ہونے والے تقریباً 20 لوگوں میں شامل تھیں، وہ عدالت کے سامنے اپنا مارچ ختم کر چکے تھے جب ان کے سامنے ’آگ کی رسی‘ لہرائی اور پھر ’دو بڑے شعلے‘ لپکے، لِن سیگل کے مطابق مظاہرین تیزی سے افراتفری کا شکار ہو گئے، اور لوگوں نے آگ بجھانے کے لیے پانی اور مدد تلاش کرنی شروع کردی۔
لِن سیگل نے بتایا کہ وہ اپنے والد کی جانب سے یہودی ہے اور 40 سال سے زیادہ عرصے سے فلسطین کی حمایت کر رہی ہے، وہ اس بات پر فکر مند تھیں کہ ان پر مشتبہ شخص کی مدد کرنے کا الزام لگایا جا سکتا ہے کیونکہ انہوں نے فلسطین کی حمایت والی شرٹ پہن رکھی تھی۔
’وہ لوگ تھے، جو جل رہے تھے، میں مدد کرنا چاہتی تھی، لیکن میں مجرم کے ساتھ منسلک نہیں ہونا چاہتا تھی۔‘
حکام نے گرفتار شخص سلیمان کے بارے میں تفصیلات ظاہر نہیں کیں لیکن ان کا ماننا ہے کہ اس نے اکیلے کام کیا اور کسی اور مشتبہ شخص کی تلاش نہیں کی جا رہی ہے، فوری طور پر کسی مجرمانہ الزامات کا اعلان نہیں کیا گیا۔
حکام نے مزید بتایا کہ وہ سلیمان کو جوابدہ ٹھہرانے کے لیے آگے بڑھیں گے، وہ زخمی بھی ہوا تھا اور اسے علاج کے لیے اسپتال لے جایا گیا تھا، لیکن حکام نے اس کے زخموں کی نوعیت کے بارے میں نہیں بتایا۔
Post Views: 5.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے مطابق حکام نے کے لیے رہا ہے
پڑھیں:
آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔
مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔
وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔
مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔