روس میں دو پل دھماکوں سے تباہ، ٹرین پٹری سے اتر گئی، 7 ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT
ماسکو: روسی حکام کے مطابق، یوکرین سے متصل علاقوں میں دو پل دھماکوں کے نتیجے میں گر گئے جس کے باعث ایک مسافر ٹرین پٹری سے اتر گئی اور کم از کم سات افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔ واقعے کو دہشت گردی کا عمل قرار دیا جا رہا ہے۔
بریانسک ریجن میں ہفتہ کی رات ہونے والے ایک دھماکے سے سڑک کا پل ریل کی پٹڑی پر گر گیا، جس سے ماسکو جانے والی ٹرین کا بڑا حصہ تباہ ہو گیا۔ 71 افراد زخمی ہوئے جن میں سے 44 افراد اسپتال میں داخل ہیں۔
دوسری جانب، کرسک ریجن میں بھی اتوار کی صبح ایک مال بردار ٹرین کے نیچے سے پل دھماکے سے تباہ ہو گیا، جس سے ٹرین کے ڈرائیور کو شدید چوٹیں آئیں اور عملے کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔
روسی حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور اسے "غیر قانونی مداخلت" اور "دہشت گردی کا واقعہ" قرار دیا ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو تمام صورتحال سے مسلسل آگاہ رکھا گیا۔
سوشل میڈیا پر جاری ویڈیوز میں جائے وقوعہ پر چیخ و پکار اور امدادی کارکنوں کو تباہ شدہ ٹرین پر کام کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک ویڈیو میں ایک خاتون کی آواز سنی جا سکتی ہے جو چیختے ہوئے کہتی ہے: "پُل کیسے گر گیا؟ وہاں بچے بھی ہیں!"
واقعے کے بعد روسی ریلوے نے مرمت کے لیے خصوصی ٹرینیں روانہ کر دی ہیں۔ ادھر استنبول میں روس-یوکرین حکام کی ممکنہ ملاقات سے ایک دن قبل یہ دھماکے کسی بڑی پیش رفت کو سبوتاژ کرنے کی کوشش قرار دیے جا رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
اسلام آباد: ملک میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان ہے۔بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے. جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے .تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔