یوکرین کا سائبیریا میں روسی ائیر بیس پر حملہ، 40 سے زائد طیارے تباہ کرنے کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT
ماسکو(نیوز ڈیسک) یوکرین نے روس کے سائبیرین علاقے میں ایک ائیر بیس پر حملے میں جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھنے والے بمبار طیاروں کو نشانہ بنایا ہے۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق یوکرین کا یہ حملہ روسی سرحد کے اندر طویل ترین فاصلے تک کیا جانے والا حملہ ہے۔
خبررساں ایجنسی کے مطابق سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی غیر تصدیق شدہ ویڈیوز اور تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بیلیا ائیر بیس پر روس کے اسٹریٹجک بمبار طیارے آگ کی لپیٹ میں ہیں۔ یہ طیارے طویل فاصلے پر موجود اہداف پر روایتی اور ایٹمی ہتھیاروں سے حملے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
حیران کن بات یہ ہے کہ یہ روسی ائیر بیس روسی علاقے ایرکٹسک کے شمال میں واقع ہے اور محاذِ جنگ سے 4 ہزار کلومیٹر سے زائد فاصلے پر ہے۔
خبررساں ایجنسی کے مطابق کیف میں یوکرینی انٹیلی جنس کے ایک اہلکار نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین کی داخلی سکیورٹی ایجنسی ایس بی یو نے ایک بڑے ڈرون حملے میں 40 سے زائد روسی لڑاکا طیاروں کو نشانہ بنایا ہے۔
یوکرینی اہلکار کے مطابق حملے میں جن طیاروں کو نشانہ بنایا گیا اُن میں Tu-95 اور Tu-22 بمبار طیارے شامل تھے، جنہیں روس یوکرین پر طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل داغنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔
خبررساں ایجنسی کے مطابق بیلیا ائیر بیس کا شمار ان روسی فضائی اڈوں میں ہوتا ہے جہاں طویل فاصلے تک مار کرنے والے تیز رفتار بمبار طیارے Tu-22M تعینات ہیں۔
پاکستان کے مختلف شہروں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی توقع،موسمیات
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: خبررساں ایجنسی کے مطابق
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔