کولوراڈو حملہ، زخمیوں کی تعداد آٹھ ہو گئی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2025ء) امریکی پولیس نے بتایا ہے کہ مغربی ریاست کولوراڈو میں اتوار کے روز ایک یہودی مارچ پر حملے کے نتیجے میں کم ازکم آٹھ افراد زخمی ہو گئے۔
گواہوں نے فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) کو بتایا کہ حملہ آور نے دیسی ساختہ دھماکہ خیز مواد استعمال کیا۔ بتایا گیا ہے کہ حملہ آور نے مارچ کے شرکا پر آتش گیر مواد پھینکا اور ساتھ ہی ''فری فلسطین‘‘ کا نعرہ لگایا۔
ایف بی آئی کے اسپیشل ایجنٹ مارک مشالک نے صحافیوں کو بتایا کہ ابتدائی حقائق کی روشنی میں یہ واضح ہے کہ یہ ایک ہدف بنا کر کی گئی پرتشدد کارروائی ہے اور ایف بی آئی اسے ایک دہشت گردانہ کارروائی کے طور پر دیکھ رہی ہے۔
پولیس کے مطابق حملے میں چار خواتین اور چار مرد زخمی ہوئے، جن کی عمریں 52 سے 88 برس کے درمیان ہیں۔
(جاری ہے)
زخمیوں کی تعداد پہلے چھ بتائی گئی تھی، جو اب بڑھ کر آٹھ ہوچکی ہے۔
حملہ آور کو جائے وقوعہ سے گرفتار کر لیا گیا تھا۔وائٹ ہاؤس کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف اسٹیفن ملر کے مطابق 45 سالہ حملہ آور امریکہ میں بغیر درست ویزے کے مقیم تھا۔ ملر نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا، ''اسے بائیڈن انتظامیہ نے سیاحتی ویزا جاری کیا تھا اور پھر اس نے غیر قانونی طور پر ویزے کی مدت سے تجاوز کیا۔‘‘
یہودی برادری کو نشانہ بنایا گیا، انٹیلیجنس ڈائریکٹرنیشنل انٹیلیجنس ڈائریکٹر تُلسی گیبارڈ نے ایکس پر لکھا کہ یہ ایک ''ہدف بنا کر کیا گیا دہشت گردانہ حملہ تھا، جو کولوراڈو کے شہر بولڈر میں یہودی برادری کے ایک ہفتہ وار اجتماع پر کیا گیا۔
یہ لوگ حماس کے 7 اکتوبر کے حملے کے دوران اغوا ہونے والے یرغمالیوں کے حوالے سے آگاہی کے لیے جمع ہوئے تھے۔‘‘بولڈر کی پولیس نے بتایا ہے کہ یہ حملہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا، جب مظاہرین ''معمول کے مطابق منعقد ہونے والے ایک پرامن ہفتہ وار مارچ میں شریک تھے۔‘‘
یرغمالیوں اور لاپتا افراد کے خاندانوں کے فورم نے ایکس پر لکھا، ''ہم کولوراڈو میں ہونے والے اس المناک حملے پر دل گرفتہ ہیں اور متاثرین کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔
‘‘اسرائیلی وزیر اعظم بنیجمین نیتن یاہو نے بھی ایکس پر تعزیتی پیغام جاری کرتے ہوئے لکھا، ''میری اہلیہ، میں اور پورا اسرائیلبولڈر، کولوراڈو کے اس ظالمانہ دہشت گرد حملے میں زخمی ہونے والوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہیں۔‘‘
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور ہوم لینڈ سکیورٹی سیکرٹری کرسٹی نوم نے بھی اس واقعے کو دہشت گردانہ کارروائی قرار دیا۔
روبیو نے ایکس پر لکھا، '' ہمارے عظیم ملک میں دہشت گردی کی کوئی جگہ نہیں۔‘‘ سامیت دشمنی کے واقعات میں اضافہ7 اکتوبر 2023ء کو حماس اور دیگر انتہا پسند گروپوں کے اسرائیل پر حملے کے بعد سے امریکہ میں سامیت مخالف تشدد کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
سات اکتوبر کے حملوں میں تقریباً 1,200 افراد ہلاک ہو گئے تھے جبکہ جنگجو ڈھائی سو سے زائد افراد کو یرغمال بنا کر غزہ لے گئے تھے۔
اس لرزہ خیز حملے کے بعد اسرائیلی دفاعی افواج نے غزہ پٹی پر قابض حماس کے جنگجوؤں کے خلاف کے عسکری کارروائیاں شروع کی تھیں۔غزہ میں حماس کے زیرانتظام طبی حکام کے مطابق اس مسلح تنازعے میں اب تک 54,300 سے زائد فلسطینی مارے جا چکے ہیں۔ تاہم ان اعداد و شمار میں شہری اور جنگجوؤں کی تفریق نہیں کی گئی۔
ادارت: کشور مصطفیٰ، رابعہ بگٹی
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کے مطابق نے ایکس ایکس پر پر لکھا حملے کے
پڑھیں:
جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) چڑھتے ہوئے سورج کی سرزمین کہلانے والی مشرق بعید کی روایت پسند بادشاہت جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق پولیس حکام کے ساتھ ساتھ میڈیا رپورٹوں میں بھی بتایا گیا کہ شمالی جاپان کے شہر فوکوشیما میں ایک جنگلی ریچھ نے متعدد حملے کر کے منگل کے روز مجموعی طور پر چار شہریوں کو زخمی کر دیا۔
سویڈن میں بھورے ریچھ کے شکار پر تحفظ پسندوں کو گہری تشویش
فوکوشیما جاپان کے جس پریفیکچر یا انتظامی علاقے میں واقع ہے، وہاں کی پولیس کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا، ''ریچھ کے حملوں کی وجہ سے انسانوں کے زخمی ہونے کے تازہ واقعات میں، جو فوکوشیما شہر میں پیش آئے، چار افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
کینیڈا کے قطبی ریچھ معدومیت کے خطرے سے دوچار
ریچھ نے حملے دو فیکٹریوں اور ایک رہائشی علاقے میں کیےاس مقابلتاﹰ عظیم الجثہ جنگی جانور نے یہ حملے دو فیکٹریوں میں اور ایک رہائشی علاقے میں کیے۔
مقامی پولیس کے سربراہ اور فائر بریگیڈ کے عملے کا بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے جاپانی میڈیا نے بتایا کہ اس ریچھ کو پہلے موٹر گاڑیوں کے پرزے بنانے والی ایک فیکٹری میں دیکھا گیا تھا، جس کے بعد پولیس کو کی گئی ایک ایمرجنسی کال میں اطلاع دی گئی تھی کہ اس ریچھ کے کاٹنے سے ''ملازمین زخمی‘‘ ہو گئے تھے۔ناروے: سیاح کو زخمی کرنے والے قطبی ریچھ کو مار دیا گیا
اس واقعے کے بعد یہ جنگلی ریچھ اس فیکٹری سے نکل کر ایک رہائشی علاقے کی طرف بھاگا اور اس کے بعد ایک ایسی دوسری فیکٹری کی طرف جہاں الیکٹرانک مصنوعات تیار کی جاتی ہیں۔
یہاں بھی یہ ریچھ دو افراد کے زخمی ہونے کی وجہ بنا۔ملکی میڈیا کے مطابق ان تین حملوں میں زخمی ہونے والے چار افراد میں سے ایک شدید زخمی ہوا ہے جبکہ باقی تین افراد کو کوئی شدید زخم نہیں آئے۔
گزشتہ برس ریچھوں کے ہاتھوں ریکارڈ حد تک زیادہ 13 ہلاکتیںجاپان میں گزشتہ برس کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں ملک بھر میں ریچھوں کے انسانوں پر کیے گئے حملوں میں 13 افراد ہلاک ہو گئے تھے، جو اس نوعیت کی انسانی ہلاکتوں کی ریکارڈ حد تک زیادہ سالانہ تعداد تھی۔
ایسے حملے روایتی طور پر اس وقت زیادہ دیکھنے میں آتے ہیں، جب شدید نوعیت کے موسم سرما کے دوران کافی عرصے تک اپنی مقابلتاﹰ گرم اور انسانی آنکھوں سے پوشیدہ پناہ گاہوں میں قیام کے بعد ایسے جنگلی جانور باہر نکلتے ہیں اور بہت بھوکے ہونے کے باعث خوراک کی تلاش کے دوران انسانوں پر حملے بھی کر دیتے ہیں۔
جفتی کی کوشش میں ریچھ نے ساتھی کی جان لے لی
سرکاری ڈیٹا کے مطابق اس سال مارچ میں ختم ہونے والے جاپان کے گزشتہ مالی سال کے دوران پورے ملک میں جنگلی ریچھوں کے ان کے قدرتی ماحول سے باہر کے علاقوں میں دیکھے جانے کے واقعات کی مجموعی تعداد 50 ہزار سے زائد رہی تھی، جو ایک نیا ریکارڈ تھا۔
اوساکا کے شہری کا مقامی بلدیہ کے لیے غیر معمولی عطیہ، اکیس کلوگرام سونا
اس سے قبل اس سالانہ تعداد کا ریکارڈ دو سال قبل مالی سال 2023 میں قائم ہوا تھا۔ لیکن 2025 میں جنگلی ریچھوں کے شہری یا دیہی علاقوں میں نظر آنے کے واقعات دو گنا سے بھی زیادہ ہو گئے تھے۔
’برفانی انسان‘ دراصل ریچھ کی ایک قسم ہے، تحقیق
ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق جاپان کی وازرات کے مطابق ملک میں جنگلی ریچھوں کے حملوں کے واقعات میں گزشتہ جان لیوا واقعہ اسی سال اپریل میں پیش آیا تھا، جس میں ایک ریچھ نے حملہ کر کے ایک شخض کو ہلاک اور پانچ دیگر کو زخمی کر دیا تھا۔
جاپانی حکومت کی طرف سے ملک میں جنگلی ریچھوں کی مجموعی آبادی کا اندازہ 57,800 کے قریب لگایا جاتا ہے۔
ادارت: جاوید اختر