ملک بھر میں شدید گرمی کی لہر برقرار ، جنوبی اضلاع میں آندھی اور جھکڑ چلنے کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 3rd, June 2025 GMT
محکمہ موسمیات کے مطابق ملک بھر میں شدید گرمی کی لہر برقرار ہے اور درجہ حرارت میں مزید اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ میدانی علاقوں میں موسم بدستور گرم رہے گا جبکہ جنوبی اضلاع میں آندھی اور جھکڑ چلنے کی توقع ہے۔
سندھ کے مختلف علاقوں خصوصاً سکھر، نوابشاہ، جیکب آباد، حیدرآباد اور روہڑی میں گرد آلود ہوائیں چلنے کا امکان ہے جس سے فضا مزید مکدر ہو سکتی ہے۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ اسلام آباد اور گردونواح میں موسم گرم اور خشک رہے گا تاہم دوپہر کے بعد تیز ہوائیں چلنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ جنوبی پنجاب، بلوچستان، سندھ اور خیبرپختونخوا کے بیشتر اضلاع شدید گرمی کی لپیٹ میں رہیں گے۔
مزید پڑھیں: مودی سرکار کی نااہلی بے نقاب: 36 لاکھ بھارتی سیلاب سے متاثر، 34 افراد جاں بحق
بہاولنگر، ملتان، ساہیوال، پاکپتن، خانیوال، ڈیرہ غازی خان اور قریبی علاقوں میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش کا بھی امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ دوسری جانب مری، گلیات، کشمیر اور گلگت بلتستان میں گرج چمک اور تیز ہواؤں کے ساتھ بارش متوقع ہے، جس سے بالائی علاقوں میں موسم جزوی طور پر تبدیل ہو سکتا ہے۔
قومی آفات سے نمٹنے کے ادارے این ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی ہے کہ طوفان اور شدید بارش کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں۔ ترجمان این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ تیز ہواؤں کے دوران کمزور عمارتوں، درختوں اور بل بورڈز کے قریب نہ جائیں اور کسی بھی ممکنہ خطرے کے پیش نظر’پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ‘ ایپ سے رہنمائی حاصل کریں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آندھی جھکڑ بارش سیلاب شدید گرمی محکمہ موسمیات.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ندھی جھکڑ سیلاب محکمہ موسمیات
پڑھیں:
وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے حکومت نے فاٹا اور پاٹا کو حاصل مختلف ٹیکس رعایتوں میں مزید توسیع نہ دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے تحت 30 جون 2026ء کے بعد انکم ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ ختم ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے جاری مذاکرات میں آئی ایم ایف نے ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتوں میں مزید کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتیں مزید کم کرنے سے تقریباً 40 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان ہے۔
وفاقی حکومت نے 30 جون 2026ء کے بعد ٹیکس چھوٹ میں مزید توسیع نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مختلف ٹیکس استثنیٰ ختم کر کے محصولات اکٹھے کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق سابق فاٹا اور پاٹا کے لیے انکم ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گا جبکہ یکم جولائی 2026ء کے بعد فاٹا اور پاٹا کے رہائشی افراد اور کمپنیوں پر عام ٹیکس قوانین لاگو ہونے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس بھی مرحلہ وار بڑھائے جانے کا امکان ہے اس سلسلے میں سابق فاٹا اور پاٹا کی صنعتوں پر سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 12 فی صد کیے جانے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ سابق قبائلی علاقوں میں درآمدی صنعتی خام مال پر بھی 12 فی صد سیلز ٹیکس عائد ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق فاٹا اور پاٹا کے لیے ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ بھی یکم جولائی 2026ء کو ختم ہونے کا امکان ہے۔
الیکٹرک گاڑیوں کے سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبل کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا۔ اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کے مطابق قبائلی علاقوں میں بجلی کی فراہمی پر سیلز ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026 تک برقرار رہے گا جبکہ مقامی طور پر تیار کردہ سائلوز پر سیلز ٹیکس چھوٹ بھی 30 جون 2026 کو ختم ہو جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔