ویسٹ انڈیز کیخلاف میچ؛ انگلش ٹیم سائیکلوں پر اسٹیڈیم کیوں پہنچی؟
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کیخلاف سیریز کے سیریز کے آخری ون ڈے انٹرنیشنل میچ میں ٹاس تاخیر کا شکار ہونے کی انوکھی وجہ سامنے آگئی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق انگلش ٹیم ویسٹ انڈیز کیخلاف سیریز کے آخری میچ میں ٹریفک جام میں پھسنے کے سبب سائیکلوں پر 40 منٹ تاخیر سے اسٹیڈیم پہنچی۔
انٹرنیشنل کرکٹ کی تاریخ میں شاید پہلی بار ایسا ہوا ہے جب انٹرنیشنل میچ ٹریفک جام کی وجہ سے تاخیر سے شروع ہوا۔
انگلش کرکٹرز نے ٹریفک جام میں پھسنے کے سبب اپنے موبائل کے ذریعے سائیکل سروس لی، جوز بٹلر، لیوک ووڈ اور ثاقب سمیت چند کھلاڑی سائیکلوں پر اوول کرکٹ گراؤنڈ پہنچے۔
تاہم مہمان ویسٹ انڈیز ٹیم کی بس بھی وقت پر نہ پہنچ سکی بلکہ ٹاس کے آفیشل ٹائم کے بھی 10 منٹ بعد اسٹیڈیم آئی، جس کے باعث تیسرے ون ڈے کا ٹاس تاخیر کا شکار ہوا۔
شیڈول کے مطابق ٹاس مقامی وقت کے مطابق 12:30 بجے ہونا تھا اور میچ 1 بجے شروع ہونا تھا۔
اس میچ میں انگلینڈ نے فتح سمیٹ کر ون ڈے سیریز میں کلین سوئپ کرلیا ہے۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ویسٹ انڈیز
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔