کرکٹ کا عجیب واقعہ: انگلینڈ کے خلاف میچ میں ویسٹ انڈین ٹیم اسٹیڈیم تاخیر سے پہنچی، وجہ کیا تھی؟
اشاعت کی تاریخ: 3rd, June 2025 GMT
لندن میں انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے درمیان تیسرے ون ڈے میچ کے لیے دونوں ٹیمیں ٹریفک جام میں پھنس گئیں جس کے باعث میچ تاخیر سے شروع کرنا پڑا۔
انگلش کھلاڑیوں نے اس کا توڑ نکالا اور موبائل کے ذریعے سائیکل سروس لے کر اسٹیڈیم پہنچے تاہم ویسٹ انڈیز ٹیم کی بس ٹریفک میں پھنسنے کے بعد 40 منٹ کی تاخیر سے اوول کرکٹ گراؤنڈ پہنچی۔
جوز بٹلر، لیوک ووڈ اور ثاقب سمیت چند کھلاڑی سائیکلوں پر اوول کرکٹ گراؤنڈ پہنچ گئے لیکن ویسٹ انڈیز کی ٹیم بس وقت پر نہ پہنچ سکی بلکہ ٹاس کے آفیشل ٹائم کے بھی 10 منٹ بعد اسٹیڈیم پہنچی۔
یہی وجہ تھی کہ تیسرے ون ڈے انٹرنیشنل کا ٹاس 40 منٹ تاخیر سے ہوا۔ شیڈول کے مطابق ٹاس مقامی وقت کے مطابق ساڑھے 12 بجے طے تھا جبکہ میچ ایک بجے شروع ہونا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انگلینڈ کرکٹ ٹیم اننگلینڈ ویسٹ انڈیز میچ میں تاخیر اوول اسٹیڈیم ویسٹ انڈین کرکٹ ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انگلینڈ کرکٹ ٹیم ویسٹ انڈین کرکٹ ٹیم ویسٹ انڈیز تاخیر سے
پڑھیں:
بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔
ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔