سی پی ایل سی چیف زبیر حبیب اپنی پوزیشن پر کام جاری رکھیں، وزیر داخلہ سندھ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, July 2025 GMT
وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے اجلاس کو ہدایات دیں کہ مالی سال 2025/2026ء کے دوران سی پی ایل سی کی امداد میں اضافہ کے حوالے سے جامع سفارشات جلد سے جلد تیار کرکے برائے ملاحظہ و مزید ضروری اقدامات ارسال کی جائیں۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار کی ذیر صدارت سی پی ایل سی ایکزیکٹیو کونسل کے پہلے باقاعدہ اجلاس کا انعقاد کیا گیا جس میں سی پی ایل سی سے متعلق 05 ایجنڈاز پر مشتمل ترجیحات و دیگر ضروری امور پر بات چیت کی گئی اور مذید ہدایات دی گئیں، ان ایجنڈاز میں شامل سی پی ایل سی قواعد و ضوابط کے تحت دستیاب خالی آسامی پر ایکزیکٹیو کونسل میں پرائیویٹ رکن ثاقب شیرازی کو نامزد کیا گیا جبکہ وزیر داخلہ سندھ نے ایکزیکٹیو کونسل سے مشاورت کے بعد سی پی ایل سی چیف زبیر حبیب کو انکی پوزیشن پر برقرار رہنے کی بھی ہدایت کی۔ مزید برآں اس موقع پر سلیکشن بورڈ کا باقاعدہ قیام عمل میں لاتے ہوئے عادل چھپرا کو سلیکشن بورڈ کا ڈپٹی چیف ایڈمن نامزد کیا گیا۔ علاوہ ازیں اجلاس کے دیگر ایجنڈاز پر بات بحث کے بعد فائنانس کمیٹی کا بھی باقاعدہ قیام عمل میں لایا گیا اور شبر ملک کو ڈپٹی چیف سی پی ایل سی آپریشنز کی ذمہ داری تفویض کی گئی۔
وزیر داخلہ سندھ نے اجلاس کو ہدایات دیں کہ مالی سال 2025/2026ء کے دوران سی پی ایل سی کی امداد میں اضافہ کے حوالے سے جامع سفارشات جلد سے جلد تیار کرکے برائے ملاحظہ و مزید ضروری اقدامات ارسال کی جائیں۔ اس موقع پر انہوں نے علی حاجی کی بطور ڈپٹی چیف سی پی ایل سی آئی ٹی بھی نامزد کیا۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ سی پی ایل سی سندھ پاکستان کا واحد ایسا ادارہ ہے جو اپنے کام اور خدمات کے لحاظ سے ناصرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی جانا جاتا ہے، میں چاہتا ہوں کہ اس ادارے کو صوبے کے تمام شہروں تک وسعت دیتے ہوئے اسکی خدمات کے دائرے کو بڑھایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے قوی امید ہے کہ یہ ادارہ مزید محنت سے اپنا لوہا منوائے گا جبکہ حکومت سندھ ہر طرح سے سی پی ایل سی کی مدد و معاونت کے عمل کو جاری رکھے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: وزیر داخلہ سندھ سی پی ایل سی
پڑھیں:
سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن
فائل فوٹو
وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، گریڈ ایک سے 16 تک ملازمین کا سفری الاؤنس بڑھا دیا گیا ہے۔
سندھ کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں، گورنر ہاؤس اور وزیراعلیٰ ہاؤس اسٹاف کی ہیلتھ انشورنس میں چھ ماہ کی توسیع کی ہے، معیشت، سرمایہ کاری، مالیات، آبی وسائل سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں، موسمیاتی تبدیلی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ نے گٹکا اور مین پوری کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کی منظوری دی ہے، گٹکا ماوا کیخلاف کارروائی نارکوٹکس کنٹرول کا محکمہ کرے گا، قانون سازی کر رہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ ملازمین عملی کام کے بجائے یونٹ، سیکٹر دفاتر میں بیٹھے رہتے تھے، صحافی ولی خان بابر نے ایسے معاملات کی رپورٹنگ کی تھی بعد میں انھیں قتل کر دیا گیا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ زراعت کے شعبے کو نقصان نہ ہو، قانون میں گندم کی ترسیل روکنے کی ممانعت ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل روکی ہوئی ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل کیلئے بارڈر سیل کیے ہیں، ہم مذمت کرتے ہیں، گندم کی فصل بہت اچھی ہوئی، سندھ میں کچھ لوگوں نے گندم کی ذخیرہ اندوزی کر رکھی ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ حکومت پانچ لاکھ میٹرک ٹن گندم امپورٹ کرے گی، پاسکو سے بھی گندم خریدی جائے گی، ان اقدامات سے گندم ذخیرہ کرنے والوں کو بہت نقصان ہوگا، ناردرن بائی پاس پر 4 سو ایکڑ پر ٹرک اسٹینڈ بنانے جارہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ افسوس کی بات ہےان دونوں رہنماؤں نے آئین اور قانون کا سنجیدہ مطالعہ نہیں کیا، مطالعہ کرتے تو اس نوعیت کے غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے سے گریز کرتے۔
صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ مون سون کے موقع پر تمام اداروں کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے، کے پی کے اور پنجاب میں بارشوں سے اموات ہوئی ہیں، حیرت کی بات ہے ہمارے میڈیا نے پر اس پر خاموشی رکھی ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کر بارش سے پنجاب کے دیہی اور شہری علاقوں کے حالات خراب ہیں، ملک بھر میں بارشوں سے بہت تباہی ہوئی ہے، پنجاب میں بارشوں سے 17 افراد جاں بحق ہوئے، خیبر پختونخوا میں بارشوں سے 20 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ کشمیر میں انتخابات چل رہے ہیں، کشمیر انتخابات میں مسلم لیگ ن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کررہی ہے۔