زر مبادلہ ذخائر میں بہتری، لیکن ڈالر ندارد
اشاعت کی تاریخ: 22nd, July 2025 GMT
حکومت کے دعوے کے مطابق 14 سال کے وقفے کے بعد مالی سال کا اختتام جاری کھاتے (Current Account) کے سرپلس کے ساتھ ہوا، جس سے اسٹیٹ بینک (SBP) کو بیرونی کھاتہ منظم رکھنے میں مدد ملی، کیونکہ ملک مالی سال 2025-26 (FY26) میں داخل ہو چکا ہے۔اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2024-25 میں جاری کھاتے کا سرپلس 2.
اس وقت حقیقی صورت حال یہ ہے اور ارباب اختیار بھی اس کی تردید نہیں کرسکتے کہ ابتدائی تخمینوں کے مطابق موجودہ مالی سال کے دوران بیرونی قرضوں کی ادائیگی کی ضروریات 23 سے 26 ارب ڈالر کے درمیان ہوں گی۔جون 2025 میں جاری کھاتے کا سرپلس 328 ملین ڈالر رہا، جو مئی کے 84 ملین ڈالر خسارے سے خاصی بہتری ظاہر کرتا ہے۔ مالی سال کے بیشتر حصے میں جاری کھاتہ سرپلس میں رہا۔ چار میں سے صرف پہلی سہ ماہی (جولائی-ستمبر ) میں 474 ملین ڈالر کا خسارہ ریکارڈ کیا گیا۔دوسری سہ ماہی میں 1.492 ارب ڈالر کا سرپلس رہا، تیسری میں 820 ملین ڈالر اور چوتھی میں 262 ملین ڈالر۔ تاہم، اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ دوسری سہ ماہی کے بعد سرپلس میں بتدریج کمی واقع ہوئی۔کئی سال کی بلند ترین سطح پر ذخائر اور زبردست جاری کھاتہ سرپلس بڑی کامیابی ہے، لیکن یہ حیرت کی بات ہے کہ فارن ایکسچینج کی لیکویڈیٹی کم ہے، اور درآمد کنندگان بروقت ادائیگیاں کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) میں مالی سال 25 کے دوران معمولی اضافہ ہوا، جو حکومتی کوششوں کے برعکس ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق، 25 میں FDI 4.7 فیصد بڑھ کر 2.457 ارب ڈالر رہی۔ جون میں FDI کا حجم 206.6 ملین ڈالر رہا، جو کہ جون 2024 میں 205 ملین ڈالر تھا۔حکومت کی سرمایہ کاری کے فروغ کی کوششوں کے باوجود اندرونی اور علاقائی حالات سرمایہ کاروں کے لیے سازگار نہیں رہے۔مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی جارحیت اور مسلسل مخاصمانہ رویے نے پاکستان میں سرمایہ کاری کو پرخطر بنا دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک کے اندرونی سیاسی حالات بھی غیر یقینی کا شکار ہیں، جس سے غیر ملکی دلچسپی کم ہو رہی ہے۔ایران اور اسرائیل کے حالیہ تنازعے نے بھی پاکستان کو متاثر کیا، اور ایران کے ساتھ تجارت اپنی نچلی ترین سطح پر آ گئی۔تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ان دونوں تنازعات نے پورے خطے کو سرمایہ کاری کے لیے غیر پرکشش بنا دیا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ صنعتی شعبے میں ملکی سرمایہ کاری بھی کم ہوئی ہے، جس کی وجہ غیر موزوں معاشی پالیسیاں اور پالیسی سازوں کے ساتھ کاروباری طبقے کے بڑھتے ہوئے اختلافات ہیں۔اس سرپلس کی سب سے بڑی وجہ 38.3 ارب ڈالر کی ریکارڈ ترسیلات زر تھیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 27 فیصد زیادہ تھیں اور اسٹیٹ بینک کے ذخائر کے لیے بنیادی سہارا بنی رہیں۔ اگرچہ حکومت کو امید ہے کہ اس سال پی آئی اے اور دیگر اثاثوں کی فروخت سے غیر ملکی سرمایہ آئے گا، لیکن قومی ایئر لائن کو ایک مقامی کمپنی کے حاصل کرنے کا امکان ہے لیکن ان تمام کامیابیوں کے باوجود حقیقت یہی ہے جسے ارباب حکومت کو تسلیم کرنا چاہئے کہ مالی سال 25 میں نجکاری پالیسی غیر ملکی سرمایہ کاری کو متوجہ کرنے میں ناکام رہی ہے۔اس دوران، اسٹیٹ بینک نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ حقیقی مؤثر شرح تبادلہ (REER) انڈیکس پر روپیہ 21 ماہ کی کم ترین سطح پر آ گیا۔ مئی میں 97.79 پوائنٹس کے مقابلے میں جون 2025 میں REER 1.22 فیصد کم ہو کر 96.61 پوائنٹس پر آ گیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے دعویٰ کیاہے کہ حکومت کاروباری اور سرمایہ کار دوست ماحول کو مزید بہتر بنانے کے لیے ترجیحی اقدامات کر رہی ہیلیکن اب تک ایسی کوششیں کہیں نظر نہیں آرہی ہیں اس کے برعکس صورت حال یہ ہے کہ ملک میں صنعت کاروں اور سرمایہ کاروں نے صنعتوں میں توسیع انھیں اپ گریڈ کرنے کے کم وبیش تمام منصوبے التوا میں ڈال دیے ہیں اور غالباً دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی پر عمل کررہے ہیں جس کی وجہ سے صنعتی شعبے کی کارکردگی میں کوئی بہتری نظر نہیں آرہی ہے اور ہماری برآمدات میں اب تک ہونے والا اضافہ ٹیکسٹائل سیکٹر کے سوا زیادہ تر غیررسمی اور زرعی شعبے کا مرہون منت رہا ہے ،اور ظاہر ہے کہ موسم جس طرح کروٹ بدل رہاہے ہم زرعی شعبے کی برآمدات پر زیادہ انحصار نہیں کرسکتے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: کی سرمایہ کاری اسٹیٹ بینک نے ایکسچینج ریٹ کرنٹ اکاؤنٹ ملکی سرمایہ جاری کھاتے ملین ڈالر کے باوجود کی وجہ سے کا سرپلس ارب ڈالر کے مسائل کے دوران مالی سال غیر ملکی صورت حال ڈالر کی سہ ماہی نہیں کر سال کے اور اس رہا ہے رہی ہے
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
عالمی منڈی میں جمعہ کو خام تیل (Crude Oil)کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھی گئی، تاہم مجموعی طور پر ہفتہ وار بنیادوں پر تیل کی قیمتیں نمایاں اضافے کی جانب بڑھتی رہیں۔ بحیرۂ احمر میں آئل ٹینکروں پر حملوں اور قازقستان سے تیل کی برآمدات میں رکاوٹ نے عالمی منڈی میں سپلائی سے متعلق خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
کاروباری سیشن کے دوران برینٹ خام تیل (Brent Crude) کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد عبور کرتے ہوئے 100.12 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو مئی کے بعد پہلی مرتبہ اس سطح پر پہنچی ہے۔ اسی طرح ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 92 ڈالر فی بیرل جبکہ اماراتی مربن آئل (Murban Crude) 107.30 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہوا۔
مارکیٹ میں تیزی کی ایک بڑی وجہ یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے بحیرۂ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان حملوں کے بعد سرمایہ کاروں میں خدشات بڑھ گئے ہیں کہ اگر باب المندب کی اہم بحری گزرگاہ متاثر ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی ترسیل شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ یہ راستہ آبنائے ہرمز کے بعد دنیا میں خام تیل کی نقل و حمل کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) نے خبردار کیا ہے کہ مستقبل میں ایسے کسی بھی حملے کی ذمہ داری ایران پر عائد کی جائے گی۔ دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان بھی کر رکھا ہے، جبکہ مختلف اطلاعات کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں باب المندب کی صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے۔
مزیدپڑھیں:پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
ادھر قازقستان (Kazakhstan) کی وزارتِ توانائی نے بتایا کہ مشتبہ یوکرینی ڈرون حملوں کے بعد ملک کی ایک اہم برآمدی تنصیب عارضی طور پر بند ہونے سے خام تیل کی پیداوار کم کر دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق کیسپین پائپ لائن کنسورشیم (Caspian Pipeline Consortium – CPC) نے ٹرمینل پر حملوں کے باعث قازقستان سے خام تیل کی وصولی عارضی طور پر معطل کر دی ہے۔ یہ پائپ لائن عالمی سطح پر یومیہ خام تیل کی تقریباً دو فیصد سپلائی سنبھالتی ہے، جبکہ ایک ذریعے کے مطابق قازقستان کے سب سے بڑے آئل فیلڈ کی پیداوار بھی نصف سے کم کر دی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی اور قازقستان سے سپلائی میں رکاوٹ کے باعث عالمی تیل مارکیٹ غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے، جس کے نتیجے میں آنے والے دنوں میں خام تیل کی قیمتوں پر اضافے کا دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔