انگلینڈ کیخلاف ٹیسٹ سیریز میں بھارت کو بڑا دھچکا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, July 2025 GMT
بھارت کے ٹیسٹ ٹیم کے کپتان شبھمن گِل نے فاسٹ بولر آکاش دیپ کی گروئن انجری کے سبب اولڈ ٹریفرڈ میں شیڈول چوتھے ٹیسٹ میں پلیئنگ الیون کا حصہ نہ ہونے کی تصدیق کر دی۔
انگلینڈ میں پانچ ٹیسٹ میچز کی سیریز کے لیے موجود بھارتی ٹیم کو شدید انجری مسائل کا سامنا ہے۔ فاسٹ بولر ارشدیپ سنگھ مانچسٹر ٹیسٹ سے جبکہ نتیش کمار ریڈی پوری سیریز سے باہر ہو چکے ہیں۔
بدھ سے شروع ہونے والے چوتھے ٹیسٹ کے لیے ٹیم منیجمنٹ کو تیسرے پیسر کے لیے پرسد کرشنا اور انشول کمبوج میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔ پیسر انشول کمبوج کو ڈیبیو کرائے جانے کے قوی امکان ہے۔ تاہم، شاردل ٹھاکر کو بھی پلیئنگ الیون کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔
واضح رہے لارڈز ٹیسٹ میں فتح کے بعد انگلینڈ کو پانچ میچز کی اس سیریز میں 1-2 سے برتری حاصل ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔