متوقع بدترین تباہ کن اور مہلک ترین جنگ عظیم
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
گرد و پیش کے حالات واضح طور پر بتا رہے ہیں کہ دنیا تباہی کےدہانے پر ہے۔ تقسیم شدہ دنیا جو آنکھوں کے سامنے بکھرنے کا عندیہ دے رہی ہے، ہم ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں۔ جہاں آج کی دنیا خطرناک حد تک تقسیم ہو چکی ہے۔ معیشت، سیاست، عسکریت، اور روحانیت ہر سطح پر۔ عظیم عالمی طاقتیں امریکہ، برطانیہ، اور یورپ اندرونی طور پر متزلزل ہو چکی ہیں۔دوسری عالمی جنگ کے بعد قائم ہونے والا عالمی نظام بکھر رہا ہے۔ہربراعظم میں بے یقینی، خوف، اور عدم استحکام بڑھتا جا رہا ہے۔یہ اشارے اب چھپے ہوئے نہیں، بلکہ کھلے، خوفناک اور عالمگیر ہو چکے ہیں۔ مغرب میں اقتصادی زوال اور سیاسی مایوسی نمایاں ہور ہی ہے،برطانیہ مییں مہنگائی بلند ترین سطح پر۔ عوامی سہولیات زوال پذیر، NHS کی سروس تاخیر اور مالی بدنظمی ، بے گھر افراد میں اضافہ۔ نوجوان طبقے میں بے روزگاری اور مایوسی۔ امير افراد كا برطانیہ سے اپنی دولت سمیت دوسرے ممالک خاص كدوبئ ميں منتقل ہونا، فوج خفیہ طور پر بڑی جنگ کی تیاری میں مصروف اور اب پریس نے بھی بڑی جنگ کے آغاز كے تبصرے لکھنے شروع کردیئے ہیں اور برطانوی وزیر اعظم نے اپنے بیان میں واضح طور پر کہا کہ ہم جنگی تیاری کررہے ہیں امریکہ شدید سیاسی تقسیم ،قوم اندرونی خلفشار میں مبتلا۔ ٹرمپ کی واپسی کے ساتھ تجارتی جنگیں، تنہا پسندی، اور تعصب کاظہور۔ یورپ و برطانیہ سے تعلقات میں تناؤ۔ اخلاقی اقدار، خاندانی نظام اور سماجی اعتماد کا زوال۔یورپ میںکورونا و یوکرین جنگ کے بعد جمود، توانائی بحران، عوامی احتجاج اور اقتصادی دباو ميں، قوم پرستی اور پاپولزم میں اضافہ۔ نیٹو میں اندرونی اختلافات، فوجی اخراجات معیشت پر بوجھ۔جنگ و خونریزی۔ یوکرین، غزہ اور مشرقِ وسطیٰ، یوکرین-روس طویل جنگ ، امن کا کوئی امکان نہیں، لاکھوں اموات۔ حاليہ یو کرین حملہ نے روس کو اشتعال دے کر جوابی بڑے حملے پر مجبور کیا تاکہ برطانیہ اور یورپ کو روس کے خلاف کھلے اعلان جنگ کا جواز مل جائے۔ غزہ میں اسرائیلی نسل کشی 55000 شہادتیں،بستیاں راکھ کا ڈھیر بنا دیں ، ہسپتالوں مسجدوں گرجا گھروں سکولوں تک کو صہيونی افواج نے تباہ برباد کردیا، مگرعالمی ضمیر خاموش اور مغربى ممالک خاص كر امریکہ ، برطانیہ اور یورپ نے اسلحہ اور اپنی شرمناک حمايت اسرائیل کے وحشيانہ اور غير قانونی و غير انسانی اقدامات كکے ساتھ رکھی۔ اب چند دن سے اسرائیل سے جنگ روکنے کو کہنا شروع کیا حالانکہ بین الاقوامی اداروں اور اعلیٰ قانونی عدالت کے اسرائیلی حکومت کے خلاف فیصلوں کو بھی نظر انداز كرديا۔ ایران پر حملے کی اسرائیلی دھمکیوں سے پورے خطے کو آگ میں جھونکنے کا خطرہ جس سے شام، عراق، حتیٰ کہ كپاکستان متاثر ہو سکتے ہیں۔ایشیاء میں کشیدگی بھارت-پاکستان، کشمیر بدستور ایٹمی فلیش پوائنٹ پر، بھارتی حکومتی مذہبی انتہا پسندی، کسی بھی غلطی سے جنگ کا اندیشہ ہے۔ چین، عالمی برتری کی جانب گامزن، تائیوان پر کشیدگی، انڈو پیسفک میں عسکری سرگرمیاں۔ اخلاقی بحران۔ دنیا اپنی روح کھو چکی ہے۔ دینی ادارے کمزور یا کرپشن کا شکار۔ مادّہ پرستی، شہوت پرستی، اسکرین کی دنیا میں گمشدگی۔ سچائی بے قیمت، جھوٹ، پروپیگنڈا، اور طاقت کا راج۔ فطرت کا انتقام ، آفات، ماحولیاتی تبدیلیاں، انسانی ظلم کا نتیجہ۔یہ صرف سیاسی بحران نہیں بلکہ روح کا زوال ہے۔مثبت مثال صرف ترکیہ کا مصالحتی عالمی کردار قابل تحسین ہے کہ اس عالمی افراتفری کے دوران، ترکیہ نے ایک روشن، مثبت غير جانب دارانہ اور مصالحتی کردار روس و یوکرین میں ادا کیا ہے۔ ترکیہ نے روس-یوکرین تنازع میں ثالثی، ایران اور مغرب کے درمیان نرمی پیدا کرنے، اور مسلم دنیا و مغربی طاقتوں کے درمیان پل بننے کی بھرپور کوشش کی۔یہ تمام مثبت کوششیں صدر رجب طیب اردوان کی قیادت، حکمت اور عالمی سطح پر امن کی خواہش کا مظہر ہیں جنہیں عالمی سطح پر سراہا جانا چاہیے۔کیا ہم آرمگیڈن کے دہانے پر ہیں؟ ابھرتی طاقتیں، مغرب کی زوال پذیر بالادستی،مذہبی جنگیں،جدید مہلک ہتھیاروں کی دوڑ، عالمی مدبرانہ قیادت، وحدت، اور حکمت کا فقدان یہ سب کچھ اس ممکنہ انجام کی طرف اشارہ کرتا ہے جسے دنیا ’’آرمگیڈن‘‘ کے نام سے جانتی ہے۔الہامی کتب اور احادیث ایک فیصلہ کن جنگ کی پیشگوئی کرتی ہیں جو دنیا کو جلا کر راکھ کر دے گی اور بڑے پیمانے پر قتل و غارت گری ہوگی۔ کچھ نشانیاں سامنے آ چکی ہیں، اور باقی تیزی سے نمودار ہو رہی ہیں۔پھر بھی۔۔۔ اُمید باقی ہے’’اور تیرا رب کسی بستی کو ناحق ہلاک نہیں کرتا جب تک کہ اس کے رہنے والے اصلاح کرنے والے ہوں‘‘ (سورۃ ہود، 11:117)اگر دل جاگ جائیں، اگر قیادت مدبرانہ مل جائےجوانصاف کو چنے،اگر انسانیت خدا کی طرف پلٹے —تو تباہی کو روکا جا سکتا ہے۔جو ایک عالمی روحانی اور انسانی بیداری کی صدا هہے یہ وقت ہے اجتماعی توبہ کا، اخلاص کا، حکمت کااور ظلم و ناانصافی اور جھوٹ کے خلاف سچ کی صدا بلند کرنے کا، ظلم کے مقابلے میں مظلوم کا ساتھ دینے کا، نفرت کے بجائے محبت کے پل بنانے کاآئیے ہتھیار نہیں — دعا کے لئے ھاتھ اٹھائیں جنگی اسلحہ کی فیکٹریاں نہیں بلکہ امن کے ستون کھڑے کریں اللہ ہمیں بیداری، ہدایت، اور امن و حفاظت عطا فرمائے،آرمگیڈن کا دروازہ کھٹک رہا ہے کیا ہم جاگ سکیںگے اور اس فتنہ کبریٰ سے نمٹنے کی تدبیر کرسکیں گے ؟ عامتہ المسلمین كکےلئے استغفار کا ربانی حفاظتی قلعہ موجود ہے۔ جسکی ضمانت الله تعالیٰ خود سورۃ انفال ميں اعلان فرمائی ہے۔ سورۃ ؟ ’’ اور اللہ ان کو عذاب نہیں دے گا جب تک کہ وہ استغفار کرتے ہوں‘‘۔ آئیے استغفار كو اپنا مستقل معمول بنا لیں۔دعاوُں سے محفوظ هو جائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔
ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔
اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔
آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔
موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔
یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔
حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔
عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔
بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔
وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔