صدر زرداری سے وزیرِاعظم شہباز شریف کی ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
—فائل فوٹو
لاہور میں صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے وزیراعظم شہباز شریف اور دیگر ملاقاتوں کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی۔
ذرائع کے مطابق صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیرِاعظم شہباز شریف کی ملاقات میں پاک بھارت کشیدگی اور ملک کی موجودہ صورتِ حال پر بات چیت ہوئی۔
ملاقات میں بجٹ میں صوبوں اور اتحادیوں کے تحفظات دور کرنے پر اتفاق ہوا، وزیرِاعظم شہباز شریف نے بلاول بھٹو زرداری کے بیرونِ ملک پاکستان کے مؤقف کو اجاگر کرنے کو سراہا۔
صدر مملکت اور وزیراعظم کی ملاقات میں وزیراعظم کے دوست ممالک کےحالیہ دوروں پر بھی گفتگو کی گئی۔
صدرِ مملکت آصف زرداری اور وزیرِ اعظم شہباز شریف نے پنجاب کی سطح پر بھی مل کر چلنے کو ضروری قرار دیا۔
دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ سمبڑیال کے ضمنی الیکشن میں پیپلز پارٹی کی ناقص کارکردگی پر صدر زرداری پارٹی عہدیداروں سے ناخوش ہیں۔
صدر زرداری نے پارٹی کو پنجاب میں مضبوط بنانے کےلیے قیادت کو ہدایات جاری کیں،جبکہ گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر کی کارکردگی کو سراہا۔
گورنر پنجاب نے پنجاب میں پیپلز پارٹی کو درپیش مسائل پر صدر آصف علی زرداری کو بریفنگ بھی دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اعظم شہباز شریف کی ملاقات مملکت ا
پڑھیں:
بلوچستان کی ترقی قومی ترجیح، وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے تاریخی فیصلے کیے، وزیراعظم شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بلوچستان پاکستان کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا اور انتہائی اہم صوبہ ہے، جس کے عوام نے قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک ملک کی ترقی اور استحکام میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت بلوچستان کی ترقی، خوشحالی اور عوام کی فلاح کو قومی ترجیح سمجھتی ہے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے ماضی میں بھی اہم فیصلے کیے گئے، جنہیں آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔
بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ 1947 میں بلوچستان کی مختلف ریاستوں نے منظم انداز میں پاکستان میں شمولیت اختیار کی، جبکہ 1948 میں بلوچ اور پشتون قبائلی و سیاسی قیادت نے قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی مخلص قیادت نے ذاتی مفادات پر قومی مفاد کو ترجیح دی، جس کے نتیجے میں صوبہ ملک کی تعمیر و ترقی کے سفر میں شریک ہوا۔
وزیراعظم نے کہا کہ اگرچہ آبادی کے لحاظ سے بلوچستان ملک کا سب سے چھوٹا صوبہ ہے، تاہم جغرافیائی اعتبار سے یہ سب سے بڑا صوبہ ہے، جہاں شہر، قصبے اور دیہات ایک دوسرے سے طویل فاصلے پر واقع ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور دیگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے نسبتاً زیادہ وسائل درکار ہوتے ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ 2010 کے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں بلوچستان کے مالی حقوق کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے حصے میں نمایاں اضافہ کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ دیگر صوبوں، خصوصاً پنجاب نے رضاکارانہ طور پر بلوچستان کے حق میں فیصلہ کیا، جبکہ پنجاب نے سالانہ 11 ارب روپے اضافی حصہ دینے کی ذمہ داری قبول کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ یہ کسی قسم کا احسان یا رعایت نہیں تھی بلکہ ایک خاندان کی طرح بھائی چارے اور قومی یکجہتی کے جذبے کے تحت کیا گیا فیصلہ تھا۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب 2010 سے اب تک بلوچستان کے لیے تقریباً 150 ارب روپے کا اضافی حصہ فراہم کر چکا ہے، جو وفاق اور صوبوں کے درمیان تعاون اور یکجہتی کی بہترین مثال ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان کی پائیدار ترقی، عوام کی خوشحالی اور صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے وفاقی حکومت ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں