ڈویژن، ضلع کے علاوہ پہلی بار تحصیل بارکو گرانٹس دی جارہی ہیں: صوبائی وزیر قانون
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
راو دلشاد : صوبائی وزیر قانون ملک صہیب احمد بھرت نے کہا کہ :پنجاب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ بڑے پیمانے پر ایسوسی ایشنز کو گرانٹس دینے کا سلسلہ جاری ہے،ڈویژن، ضلع کے علاوہ پہلی بار تحصیل بارز کو گرانٹس دی جارہی ہیں.
پنجاب کی گیارہ تحصیل بار ایسوسی ایشنز کو مجموعی طور پر پونے تین کروڑ روپے کی گرانٹ دی گئی۔پنجاب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ فی تحصیل بار کو 25لاکھ روپے گرانٹ دی گئی .
مودی کو دیکھیں تو یہ لگتا ہے کہ وہ نیتن یاہو کی کاپی ہے
ایم پی اے چوہدری اختر علی کی موجودگی میں صدر بار کامونکی چوہدری محمد عرفان کو 25 لاکھ گرانٹ کا چیک دیا گیا.ایم پی اے چوہدری ضیا الرجمن کی موجودگی میں تحصیل بار جہانیاں کے صدر ذاکر حسین کو 25 کروڑ کی گرانٹ کا چیک دیا گیا.ایم پی اے عبدالقادر اعوان موجودگی میں گوجرہ بار کے صدر مرزا طارق حیسن کو 25 لاکھ گرانٹ کا چیک دیا گیا.ایم پی اے محمد فیاض کی موجودگی میں پسرور بار صدر غلام غوث کو 25 لاکھ گرانٹ کا چیک دیا گیا۔ ایم پی اے محمد یامین کی موجودگی میں کوٹلی ستیاں بار کے صدر حمید اظہر کو 25 لاکھ گرانٹ کا چیک دیا گیا.ایم پی اے جعفر علی ہوچھا کی موجودگی میں تانتیلانوالہ بار کے صدر سخاوت علی کو 25 لاکھ کا چیک دیا گیا.
اقوام متحدہ میں فرانس کے سفیر کی پاکستانی اعلیٰ سطح پارلیمانی وفد سے ملاقات
ایم پی اے راؤ کاشف رحیم کی موجودگی میں سمندری بار کے صدر وقاض حمید کو 25 لاکھ گرانٹ کا چیک دیا گیا.ایم پی اے خان بہادر کی موجودگی میں جڑانوالہ بار کے صدر کو 25 لاکھ کا چیک دیا گیا.ایم پی اے ناصر محمود کی موجودگی میں پنڈ دادن خان بار کے صدر کو 25 لاکھ* گرانٹ کا چیک دیا گیا.تحصیل بار ڈسکہ اور دیپالپور کو 25، 25 کی گرانٹ دی گئی.
ملک صہیب احمد بھرتھ کا کہنا تھا کہ فی میل بار روم کی تعمیر کا جلد آغاز کر رہے ہیں،بار ایسوسی ایشنز گرانٹ سے بار کے مسائل کو حل کریں، ینگ وکلاء کے لیے انٹرن شب پروگرام کا آغاز جلد کر رہے ہیں،وزیر اعلی پنجاب وکلا کمیونٹی کے مسائل کو حل کرنے لیے متحرک ہیں۔
اب میں پیٹرن ان چیف ہوں؛ بانی نے خود کو بالائے آئین عہدہ پر ترقی دے لی
ایم پی ایز و صدور بار کا گرانٹ دینے پر سی ایم پنجاب مریم نواز کا شکریہ ادا کیا۔
صدور بار ایسوسی ایشنز کا کہنا تھا کہ حکومت پنجاب نے برابری کی سطح پر تمام بارز کو گرانٹ دی.
وکلا کمیونٹی کا کہنا تھا کہ وزیر اعلی پنجاب مریم نواز اور صوبائی وزیر قانون ملک صہیب احمد بھرتھ کے شگر گزار ہیں.
تقریب میں سیکرٹری قانون پنجاب آصف بلال لودھی اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔
6 عارضی منڈیوں میں 600 سے زائد افسران و جوان ڈیوٹی پر ہیں؛ ڈی آئی جی آپریشنز
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: کی موجودگی میں ملک صہیب احمد ایسوسی ایشنز بار کے صدر تحصیل بار کو گرانٹ
پڑھیں:
جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔