مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سڑک کی عدم موجودگی کی وجہ سے وہ بھاری ٹرانسفارمر، تعمیراتی سامان، راشن اور یہاں تک کہ مریضوں کو کئی کلومیٹر تک پیدل لے جانے پر مجبور ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں مودی کی زیرقیادت بھارتی حکومت کی طرف سے ترقی کے دعوئوں کے باوجود زمینی حقائق بالکل مختلف کہانی سنا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ترقی کے دعوئوں اور وعدوں کے برعکس بہت سے علاقوں کے مکینوں کو بنیادی ڈھانچے کے شدید فقدان کا سامنا ہے جو ٹرانسپورٹ اور دیگر سروسز کی عدم موجودگی کی وجہ سے بھاری الیکٹرک ٹرانسفارمر اپنے کندھوں پر اٹھائے میلوں تک لیجانے پر مجبور ہیں۔ یہ صورتحال دفعہ370 کی منسوخی کے بعد مودی حکومت کی طرف سے کئے گئے ترقی اور امن کے دعوئوں کی نفی کرتے ہیں۔ جموں خطے کے ضلع رامبن سے وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ 20 سے زیادہ افراد اپنے کندھوں پر الیکٹرک ٹرانسفارمر کو ایک کھڑی پہاڑی سے نیچے اتارنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بھاری ٹرانسفارمر کو لوہے کے پائپوں سے باندھا گیا ہے تاکہ اس کو کھاری مہوروڑ تک لے جانے میں آسانی ہو۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ خراب ٹرانسفارمر کو تحصیل کھاری کے گائوں بزلہ سے مین روڈ پر منتقل کیا جا رہا تھا۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ سڑک کی عدم موجودگی کی وجہ سے وہ بھاری ٹرانسفارمر، تعمیراتی سامان، راشن اور یہاں تک کہ مریضوں کو کئی کلومیٹر تک پیدل لے جانے پر مجبور ہیں۔ مقامی لوگوں میں سے ایک نے بتایا کہ ہم بیماروں کو اسی طرح اپنے کندھوں پر اٹھاتے ہیں کیونکہ سڑک کی عدم موجودگی کی وجہ سے ایمبولینسز ہم تک نہیں پہنچ سکتی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کی عدم موجودگی کی وجہ سے مقامی لوگوں کے دعوئوں

پڑھیں:

مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو  ہونے کا اندیشہ

بی جے پی کی کٹھ پتلی مودی سرکار کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ سامنے آنے لگا، جہاں بھارت میں نوجوانوں کی تحریک بےقابو ہونے کا اندیشہ بڑھ گیا ہے۔

بھارتی نوجوانوں نے مودی سرکارکو چیلنج کرتے ہوئے کاکروچ پارٹی کی جانب سے نئی دہلی میں احتجاج کی کال دے دی گئی ہے۔ خدشہ ہے کہ پارٹی آہستہ آہستہ زور پکڑتی جائے گی کیونکہ بھارت کے اندر بےتحاشا تضادات اور گروہ بندی پائی جاتی ہے ۔

بھارت میں مودی سرکار نے ان گروہ بندیوں کو کم کرنے کے بجائے  ان کو مزید مذہبی بنیادوں پر ہوا  دے دی ہے، جہاں نوجوان جو نسلی، ذات اور مذہب کی بنیاد پر دھتکارے جا چکے ہیں، انہیں بھارت میں اپنا مستقبل تاریک نظر آتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کے کاکروچ پارٹی بےحد مقبول ہوتی جا رہی ہے ۔

نیپال اور بنگلادیش کے بعد بھارت میں کاکروچ پارٹی کی جین زی انقلابی تحریک زورپکڑنے لگی ہے۔ عالمی جریدے رائٹرزکےمطابق کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دِپکے نے کہا  ہے کہ ہم اس تحریک سے پیچھے نہیں ہٹیں گےاورمیں جلد بھارت آکراس تحریک کوآگے بڑھاؤں گا۔

ابھیجیت دِپکے کا کہنا ہے کہ  خدشہ ہےکہ مجھےایئرپورٹ سے ہی گرفتارکرکےجیل بھیج دیا جائے گا لیکن مجھے کوئی پروا نہیں ہے۔

رائٹرز کے مطابق بے روزگاری،کرپشن اورپیپرلیک نے کروڑوں طلبہ کی زندگیوں کومذاق بنا دیا، یہی بحران اس تحریک کے اصل محرکات ہیں۔

سینئر وکیل پرشانت بھوشن کے مطابق مودی سرکاربھارت میں کسی بھی جین زی انقلاب سے بہت ڈری ہوئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں بڑھتی بے روزگاری اورکرپشن پر نوجوانوں کا غصہ تباہ حال نظام کے خلاف ان کا حقیقی ردِعمل ہے۔ بھارت کی گرتی ہوئی معاشی صورتحال، گرتی ساکھ اورمودی سرکارکی انتہا پسندانہ پالیسیاں عوامی غم و غصے کی بنیاد بن رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ
  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو  ہونے کا اندیشہ
  • گلگت بلتستان انتخابات: پی ٹی آئی پر مقامی سیاسی عمل کو متاثر کرنے اور افراتفری پھیلانے کا الزام
  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم