غزہ میں خوراک کی فراہمی مہم میں ’کریم‘ کی مدد
اشاعت کی تاریخ: 22nd, July 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 22 جولائی 2025ء) عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) اردن اور متحدہ عرب امارات میں عطیہ مہم شروع کر رہا ہے جس کے ذریعے غزہ اور مغربی کنارے میں لوگوں کو ہنگامی غذائی امداد فراہم کی جائے گی۔
ادارہ یہ مہم اپنی اعزاز یافتہ موبائل فون ایپلی کیشن 'شیئر دی میل' کے ذریعے چلائے گا جس میں اسے کثیرالجہتی خدمات مہیا کرنے والی ایپلی کیشن کریم کا ساتھ بھی میسر ہے۔
اس مہم کی بدولت کریم کے صارفین اس غذائی مہم میں عطیات دے سکیں گے۔'ڈبلیو ایف پی' سلامتی کے متواتر بگڑتے حالات، محدود رسائی اور بڑھتی ہوئی مایوسی کے باوجود غزہ میں ضروری امداد پہنچا رہا ہے۔ حالیہ اندازے سے ظاہر ہوتا ہے کہ علاقے میں ایک تہائی آبادی کئی روز فاقے کرتی ہے جس کے نتیجے میں لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔
(جاری ہے)
21 مئی کے بعد ڈبلیو ایف پی کی ٹیموں نے 1,200 سے زیادہ ٹرکوں پر مشتمل درجنوں قافلوں کے ذریعے 18,247 میٹرک ٹن خوراک غزہ میں پہنچائی ہے۔
زندگیاں بچانے کی کوششکریم کے صارفین اس ایپلی کیشن میں 'رائٹ کلک' پلیٹ فارم کے ذریعے 'ڈبلیو ایچ او' کے ہنگامی امدادی اقدام میں براہ راست عطیات دے سکتے ہیں۔ اس رقم سے غزہ اور مغربی کنارے میں لوگوں کے لیے گندم کے آٹے، تیار کھانے اور غذائیت کی فراہمی کا اہتمام کیا جائے گا جہاں رواں سال ادارے نے 15 لاکھ لوگوں کو مدد پہنچانے کی منصوبہ بندی کی ہے۔
متحدہ عرب امارات میں 'ڈبلیو ایف پی' کے ڈائریکٹر اور خلیج تعاون کونسل کے علاقے میں ادارے کے نمائندے سٹیفن اینڈرسن کریم کے ساتھ شراکت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اردن اور یو اے ای کے شہری اس مشترکہ پلیٹ فارم کے ذریعے غزہ کے لوگوں کے لیے براہ راست عطیات دے سکیں گے۔ اس طرح 'ڈبلیو ایف پی' کو زندگیاں بچانے میں مدد ملے گی۔
کریم کے سی ای او اور معاون بانی مدثر شیخہ نے کہا ہے کہ وہ اس پلیٹ فارم کے ذریعے لوگوں کو بااختیار اور ضرورت کے وقت مثبت کردار ادا کرنے کے قابل بنانے پر یقین رکھتے ہیں۔
غزہ کا بحران ہنگامی انسانی صورتحال ہے جو فوری اقدامات کا تقاضا کرتی ہے اور کریم 'ڈبلیو ایف پی' کی شراکت سے دونوں ممالک میں اپنے صارفین کو اس معاملے میں براہ راست مدد دینے کے قابل بنا رہا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ کریم کے ذریعے عطیات دینا بہت آسان عمل ہے جس میں چند ہی جگہوں پر کلک کر کے ان لوگوں کو غذائی مدد فراہم کی جا سکتی ہے جو ناقابل بیان تکالیف کا سامنا کر رہے ہیں۔
غزہ کا غذائی بحرانغزہ میں لوگوں کا دارومدار صرف امدادی خوراک پر ہے۔ علاقے میں آٹے کی قیمت اکتوبر 2023 سے پہلے کے مقابلے میں 3,000 گنا بڑھ گئی ہے جبکہ کھانا بنانے کا تیل ناپید ہے۔ 'ڈبلیو ایف پی' کے زیراہتمام لائی گئی ایک لاکھ 16 ہزار میٹرک ٹن غذائی امداد غزہ کی سرحدوں پر تیار پڑی ہے جو دو ماہ تک علاقے کی تمام آبادی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہے۔
کریم نے رواں سال ہنگامی امداد اور تعلیم کے لیے مدد کی فراہمی سمیت مختلف مقاصد کے لیے 200,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے عطیات دیے تھے۔ 'ڈبلیو ایف پی' کی مہم اردن اور یو اے ای میں کریم کے عطیہ پلیٹ فارم 'رائٹ کلک' پر لانچ کر دی گئی ہے جس تک آئی او ایس یا اینڈرائیڈ پر کریم ایپلی کیشن کے تازہ ترین ورژن کے ذریعے رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ڈبلیو ایف پی ایپلی کیشن میں لوگوں پلیٹ فارم کے ذریعے لوگوں کو کریم کے کے لیے
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔