Daily Ausaf:
2026-06-03@02:40:40 GMT

بارود اور دلیل کا چراغ

اشاعت کی تاریخ: 6th, June 2025 GMT

برصغیرکی زمین نے نجانے کتنے ہی لشکروں کے نقوش اپنے دامن پرسجارکھے ہیں۔کبھی خنجرکی جھنکارنے امن کی فضاکو چیرڈالا،اورکبھی الفاظ کی تاثیرنے خونریزی کے طوفان کوروک لیا۔آج جب تاریخ ایک اورموڑپرکھڑی ہے،سوال یہ ہے کہ آیا ماضی کاخوں آشام سایہ پھرہمارے حال پرمنڈلارہاہے؟
ہندوستان اورپاکستان کے درمیان کشیدگی نہ صرف ایک علاقائی تنازع ہے بلکہ جنوبی ایشیاکے امن،ترقی،اوربقاء کے لئے ایک مسلسل خطرہ بن چکاہے۔ پہلگام کے فالس فلیگ آپریشن کے بعد یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ موجودہ طاقت کاتوازن کہاں کھڑاہے، بھارت کن داخلی بحرانوں میں گھراہوا ہے،اورمودی ہمیشہ کی طرح اب بھی اپنی عوام کوپاکستان اورچین کی طرف سے شدید خطرات کامنظرنامہ دکھاکراپنے آئندہ انتخابات میں جیتنے کے لئے فالس فلیگ جیسے ڈراموں کاسہارالے کر اس خطے کومیدانِ جنگ بنانے پرتلاہواہے۔ مستقبل میں جنگی تبدیلیوں کاکیامنظرنامہ ممکن ہوسکتاہے،تاریخی ودستاویزی حقائق اورعالمی ردعمل پرمبنی شواہد قارئین کے سامنے رکھنے کی کوشش کررہاہوں۔
تاریخ کے صفحات اگرچہ خون سے ترہیں،مگروہ ہمیں ہرصفحہ پرامن کاسبق بھی دیتے ہیں۔موجودہ حالات میں،دونوں ممالک کے بیانات اور اقدامات اگرچہ مخاصمت کی بورکھتے ہیں،مگریہ کہناقبل ازوقت ہوگاکہ جنگ یقینی ہے۔ہاں،تصادم کاخدشہ ضرورموجود ہے۔ سرحدوں پربڑھتی ہوئی کشیدگی، سفارتی سطح پرتلخ بیانی اورعسکری مشقیں ایک نئے محاذکی پیش خیمہ ہوسکتی ہیں۔سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اوربھارت میں ایک اورتصادم متوقع ہے؟
عقل سلیم گواہی دیتی ہے کہ جنگ کوئی کھیل نہیں،اورتصادم محض تلواروں کے جھپٹنے کانام نہیں، بلکہ دوقوموں کی بقا،معیشت اورتہذیب کافیصلہ کن لمحہ ہوتاہے۔موجودہ حالات میں بارودکی بوفضامیں رچی بسی محسوس ہوتی ہے،جیسے خاموش دریاکے نیچے تندوتیزلہریں چھپی ہوں۔اگرمتعصب ہندومودی نے عقل وتدبرکو ترک کیااورجذبات کوسازشوں کے ہاتھ گروی رکھ دیا تو یہ تصادم بعیدنہیں۔
بھارتی حکمرانوں کی طرف سے تند وتیزبیانات کے بعدیقینایہ سوال اٹھتاہے کہ کیابھارت اپنی شکست کابدلہ لینے کی تیاری کررہا ہے؟نہ صرف سیاسی بیانات، بلکہ دفاعی بجٹ میں اضافہ اوراسرائیل وامریکا سے اسلحہ کی خریداری اس امرکی دلیل ہیں کہ بھارت خطے میں بالادستی کاخواب دیکھ رہاہے۔تاریخ شاہدہے کہ زخم خوردہ اناجب عقل پرغالب آتی ہے تو بسااوقات اقوام کوہلاکت کے دہانے پرلاکھڑاکرتی ہے۔تاریخ کاسبق یہی ہے کہ جوطاقت شکست سے دوچارہو،وہ خاموش نہیں رہتی،بلکہ انتقام کی آگ میں اندر ہی اندرجلتی ہے۔بھارت کاعسکری تیور،اسرائیل کے ساتھ دفاعی معاہدے،اورپاکستان کے خلاف مسلسل بیان بازی یہ ظاہرکرتی ہے کہ وہ پھرسے آزمانے کے درپے ہے لیکن قومی غیرت کا تقاضایہ ہے کہ پاکستان ہوشیار،تیاراورپرامن رہے،مگرفوری جواب میں کمزوری ہرگزنہ دکھائے۔
امریکی صدرٹرمپ اپنے سرپرسیزفائر کا سہر اسجائے ساری دنیامیں یہ اعلان کررہے ہیں کہ مئی کے اوائل میں دونوں ممالک ایٹمی جنگ کے دہانے پرپہنچ چکی تھیں،میں نے فوری مداخلت کرتے ہوئے ایٹمی جنگ سے اس خطے کوبچالیا،کیاواقعی ایسا ہی ہے جیساکہ وائٹ ہاس کے نئے فرعون کابیانیہ ہے؟جوکچھ ہوا،وہ صرف عسکری تصادم نہ تھا،بلکہ خطے کے مستقبل کوایٹمی دھویں میں لپیٹ دینے کی سنگین علامت تھا۔ایک غلطی،ایک ناقص فیصلے کانتیجہ کروڑوں زندگیاں ہوسکتی تھیں۔اگرچہ سفارتی ذرائع نے وقتی طورپرآگ بجھائی، مگر راکھ میں چنگاری باقی ہے۔یقیناجو لمحہ گزرا،وہ صرف تاریخ کاایک صفحہ نہیں،بلکہ انسانیت کی پیشانی پرلکھاوہ سیاہ دھبہ ہے،جسے اگردوبارہ دہرایاگیاتو نہ تاریخ بچے گی،نہ پیشانی۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف جنگی تیاریوں میں تھے اورجوہری ہتھیاروں کے سائے تلے ہم سب ایستادہ تھے۔یہ لمحہِ عبرت تھا،مگرافسوس کہ سیکھنے والے کم اوردہرانے والے زیادہ ہیں۔
اقوامِ عالم،بالخصوص اقوامِ متحدہ،امریکا،چین اورروس نے فوری طورپرکشیدگی میں کمی کی اپیل کی مگران بیانات میں سنجیدگی کم،سفارتی رسمیت زیادہ دکھائی دی۔گویادنیابرصغیرکو میدانِ جنگ بننے سے روکناچاہتی ہے،مگرسنجیدہ ثالثی کے لئے قدم پیچھے کھینچ لیتی ہے۔لیکن جونہی پاکستان نے بھارتی جارحیت کاجواب دیاتوفوری طورپرگھنٹیاں بجنے لگیں اورفوری سیز فائرکے لئے بے تابی بڑھ گئی۔عالمی تجزیہ نگاربھی تسلیم کرچکے ہیں کہ سیزفائرکے لئے امریکااوربرطانیہ میں سیزفائرکے لئے فوری سنجیدگی کے پیچھے کئی اورعوامل بھی پنہاں تھے کہ وہ امریکاجس نے اعلانیہ اس جنگ سے لاتعلقی کااظہار کیا مگرپاکستانی جواب کے بعد اس سرعت کے ساتھ کیوں حرکت میں آگیا اور اس سیزفائرمیں اب مسئلہ کشمیر کاایک مرتبہ پھر ذکرکرکے پاکستان کولالی پاپ سے بہلانے کی لالچ بھی دی گئی۔
ہم سب جانتے ہی کہ بھارتی جارحیت پرعالمی طاقتیں وہ خاموش تماشائی بن گئیں،جیسے کوئی ظالم فلم کاناظرہو،اوراس کاضمیر محض’’تشویش‘‘کے بیانات دے کرمطمئن ہوجائے۔ اقوامِ متحدہ نے چندرسمی جملے ادا کیے،مگرمؤثراقدام ندارد۔صرف پاکستان سے دوستی نبھانے والے چین،ترکی اورچنددیگرممالک پہلے دن سے پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوگئے تھے اوراس سلسلے میں پاکستان کی سفارتی کارکردگی کے چرچے بھی شروع ہوگئے ۔دنیا کو چاہیے تھاکہ ثالثی کافعال کرداراداکرتی، مگراکثر طاقتور، امن کونفع کے ترازومیں تولتے ہیں ۔ اگرآئندہ ایٹمی خطرہ پیداہوگیاتو دنیاکے ہاتھوں میں صرف مذمتی بیانات ہوں گے اورزمین پرلاشیں۔ایٹمی جنگ کی لپیٹ میں آنے والے صرف لاہوریادہلی نہیں ہوں گے، بلکہ اس کازہر ہواں میں گھل کرلندن، نیویارک،ماسکوتک پہنچے گا۔اگرخدانخواستہ آئندہ ایٹمی خطرہ درپیش ہوتودنیا کی خاموشی ایک مجرمانہ غفلت تصورکی جائے گی۔عالمی برادری کوچاہیے کہ محض تشویش کااظہار کرنے کی بجائے تدبیر اختیارکرے۔یہ وقت ہے کہ دنیافیصلہ کرے، خاموش رہنا ہے یاضمیرکوبیدارکرنا ہے؟
پانی حیات کی علامت ہے اورجب یہی آبِ حیات کوہتھیاربنادیاجائے تویہ ظلمِ عظیم ہے۔سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی پاکستان کی زراعت،معیشت اورخودمختاری پروار کے مترادف ہے۔بھارت کی یہ روش نہ صرف معاہداتی اصولوں کی پامالی ہے بلکہ یہ پانی کوایک نئی جنگ کامحرک بنانے کی کوشش ہے۔جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ پانی زندگی ہے، اورزندگی کابہاروک دینا ظلمِ عظیم ہے۔بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی صرف قانونی نہیں،اخلاقی اورانسانی جرم بھی ہے۔ پاکستان کی زراعت، صنعت،اورخودمختاری کا دارو مدار انہی دریاں پرہے۔ پانی کی جنگ،بارود سے زیادہ خوفناک ہوسکتی ہے۔
(جاری ہے)

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: کے لئے ہیں کہ

پڑھیں:

جنگ امن اور معیشت کی کہانی

پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔

دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔

علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔

کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔

بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔

کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔

لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔

بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔

اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف دے دیا
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی