Islam Times:
2026-06-03@06:51:39 GMT

عرفانِ دعائے عرفہ، محمد علی سید کا تحقیقی کارنامہ

اشاعت کی تاریخ: 6th, June 2025 GMT

عرفانِ دعائے عرفہ، محمد علی سید کا تحقیقی کارنامہ

اسلام ٹائمز: محمد علی سید صاحب نے امام حسین (ع) کے الفاظ میں چھپے ہوئے علمی و سائنسی خزانے کو نہایت آسان زبان، دلائل اور مثالوں کے ذریعے عام فہم بنا دیا ہے۔ آج جب دنیا علم کے میدان میں برق رفتاری سے آگے بڑھ رہی ہے، ہمیں بھی دینی متون کی سائنسی جہات کو اجاگر کرکے نئی نسل کو یقین دلانا ہے کہ ہمارا دین فقط جذباتی یا تعبدی نہیں بلکہ علمی و تحقیقی بنیادوں پر استوار ہے۔ اس ضمن میں ''عرفان دعائے عرفہ'' ایک مضبوط حوالہ ہے، جسے دینی مدارس، تبلیغی مراکز اور علمی نشستوں میں بطور نصاب یا کم از کم مطالعہ کیلئے شامل کیا جانا چاہیئے۔ تحریر: آغا زمانی

دعائے عرفہ دعاؤں کے خزانے میں ایک بے مثال گوہر ہے۔ یہ وہ دعا ہے، جو نواسۂ رسول، حضرت امام حسین علیہ السلام نے 9 ذی الحج 58 ہجری کو میدانِ عرفات میں ادا کی۔ یہ صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ خالقِ کائنات کی معرفت اس کے احسانات اور انسان کی تخلیق سے متعلق ایسی گہری باتیں سمیٹے ہوئے ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ امام حسین (ع) نے اس دعا میں اللہ کے وجود پر دلائل دیئے اس کی نعمتوں کا شمار کیا اور انسان کو اپنے اندر جھانک کر خدا کو پہچاننے کا راستہ دکھایا۔ یہی وجہ ہے کہ دعائے عرفہ کو دعائیہ ادب کا ایک عقلی، روحانی اور سائنسی شاہکار بھی کہا جا سکتا ہے۔ معروف محقق اور مفکر محمد علی سید صاحب نے دعائے عرفہ کے صرف 34 کلمات کو بنیاد بنا کر ایک حیرت انگیز سائنسی تحقیق پیش کی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ صرف اتنے کم کلمات ہی کیوں منتخب کیے تو ان کا جواب تھا، ''کیونکہ میرے علم کی حد وہیں تک تھی'' لیکن یہی مختصر حصہ سائنسی لحاظ سے اتنا وسیع نکلا کہ حیرت ہوتی ہے۔

ان کلمات میں علمِ حیاتیات (Biology)، علمِ تشریح الاعضاء (Anatomy)، علمِ فعلیات (Physiology) اور حتیٰ کہ جینیات (Genetics) جیسے جدید ترین شعبوں کی جھلک دیکھی جا سکتی ہے۔ امام حسین (ع) نے جسمانی اعضاء کے صرف نام نہیں لیے بلکہ ان کے باطنی افعال اور اندرونی ساخت کا بھی ذکر فرمایا۔ مثلاً: جگر نہیں کہا بلکہ "جگر اور اس کے اطراف کے خزانے" فرمایا۔ کان نہیں کہا بلکہ "کان کی جھلیاں" کہا۔ زبان نہیں بلکہ "زبان اور ذائقوں کی حس" کا ذکر۔ آنکھ نہیں بلکہ "نور کے راستے" فرمایا۔ دل نہیں بلکہ "دل کے پردے" کہہ کر اس کی گہرائی بیان کی۔ سانس نہیں بلکہ "نفس کے راستے" کہہ کر تنفس کے عمل کی طرف اشارہ دیا۔ یہ تفصیلات وہ ہیں، جن تک انسان کی سائنسی رسائی امام کے زمانے میں تو درکنار صدیوں بعد جا کر ممکن ہوئی۔ مثلاً 1540ء میں اٹلی کے ایک ماہر حیاتیات نے لاشوں کا پوسٹ مارٹم کرکے اعضاء کا مشاہدہ شروع کیا اور مشہور مصور و سائنسدان لیونارڈو ڈاونچی نے موم بتی کی روشنی میں انسانی جسم کے خاکے بنائے۔

یہ وہ سچائیاں تھیں، جنہیں ریڈیالوجی اور مائیکرو بیالوجی جیسے علوم کی مدد سے آج کا سائنسدان سمجھتا ہے، جبکہ امام حسین علیہ السلام نے چودہ سو سال پہلے ان کا ذکر کر دیا۔ محمد علی سید کی تحقیقی و تخلیقی صلاحیت نے ان نکات کو سائنسی انداز میں بیان کرکے ثابت کیا کہ قرآن، اہل بیت (ع) اور سائنس ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ایک ہی حقیقت کے مختلف زاویئے ہیں۔ ان کی 14 کتابیں اسی موضوع پر شائع ہوچکی ہیں، جن میں عرفانِ دعائے عرفہ ایک شاہکار ہے۔ چاہے وہ جسم کے عجائبات ہوں، ڈی این اے۔ جسم کی کتابِ ہدایت، ثقلین اور سائنس ہو، یا پانی کے عجائبات۔۔۔ ہر کتاب کا بنیادی پیغام یہی ہے: "خود شناسی کے ذریعے خدا شناسی تک رسائی ممکن ہے۔"

دعائے عرفہ کو ہمیشہ ایک روحانی، عرفانی اور دعائیہ متاع کے طور پر پڑھا گیا ہے، لیکن محمد علی سید صاحب وہ پہلی شخصیت ہیں، جنہوں نے 1400 سال بعد اس عظیم دعا کو سائنس کی روشنی میں دیکھنے اور پرکھنے کی کوشش کی۔ ان کا تحقیقی کارنامہ صرف ایک کتاب نہیں بلکہ ایک نئی جہت کی دریافت ہے۔ ایک ایسا دروازہ جو امام حسین علیہ السلام کے علمِ لدنی کو سائنسی نظر سے دیکھنے کے لیے کھولا گیا۔ حضرت امام حسین علیہ السلام نے جس وقت جسمِ انسانی کی تخلیق، اعضائے بدن کے افعال اور ان کی ساخت کا ذکر دعائے عرفہ میں فرمایا، اس وقت تو سائنس کا نام و نشان بھی نہ تھا۔ لیکن یہ امام کا کمال علم تھا کہ انہوں نے ایسی تفصیلات بیان فرمائیں، جنہیں جدید سائنس ہزار سال بعد جا کر دریافت کر پائی۔

محمد علی سید نے دعائے عرفہ کے ان منتخب کلمات کو نہ صرف سمجھا بلکہ ان میں چھپے ہوئے سائنسی اور طبی رازوں کو اس طرح کھولا کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ ''عرفانِ دعائے عرفہ'' کے ذریعے انہوں نے ان رازوں کو عام فہم انداز میں قارئین تک پہنچایا۔ یہ ایسا پہلو تھا، جس پر اس سے پہلے شاید ہی کسی نے توجہ دی ہو۔ ہم دعائے عرفہ پڑھتے تو رہے، مگر اس میں چھپی میڈیکل سائنس اور جینیات کی زبان کو کبھی نہ سمجھ پائے۔ یہی وجہ ہے کہ محمد علی سید کا یہ کام نہ صرف ایک دینی خدمت ہے، بلکہ سائنسی دنیا کے لیے بھی ایک دعوتِ مطالعہ ہے۔ ان کی تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ امام حسین (ع) نے کچھ ایسی باتیں بیان فرمائیں، جو صرف وہی ہستی بیان کرسکتی ہے، جس کے پاس ماورائی علم ہو۔ ایسا علم جو سینکڑوں سال بعد انسان کے سائنسی تجربات سے ثابت ہوا۔

مثال کے طور پر، کتاب کے چوتھے باب میں محمد علی سید نے نوزائیدہ بچوں کے دودھ کے بننے کے عمل کو جس وضاحت سے بیان کیا ہے، وہ میڈیکل سائنس کی گہرائی کو عام فہم میں منتقل کرنے کی ایک عمدہ مثال ہے۔ چھٹے باب میں اللہ کی عطا کردہ بصارت کو جس سادہ اور واضح انداز میں بیان کیا گیا ہے، وہ انداز نہ صرف اسلامی کتب میں نایاب ہے بلکہ سائنسی کتب میں بھی کم کم دکھائی دیتا ہے۔ باب 34 میں شیر خوار بچوں کے دوران جسمانی نشوونما کے جس پہلو پر امام حسین (ع) نے روشنی ڈالی، اسے محمد علی سید نے موجودہ سائنسی علم سے جوڑ کر بڑے سلیقے سے بیان کیا ہے۔ لحمیات (پروٹین) کی بناوٹ، ایمینوایسڈز کی زنجیر اور ان کے آپس میں جڑنے کے عمل کو "قالین بافی" سے تشبیہ دے کر نہایت خوبصورت انداز میں سمجھایا گیا ہے۔

یہ اسلوب صرف تحقیق نہیں بلکہ تدبیر ہے۔ ایک ایسی تدبیر جو خود شناسی سے خدا شناسی تک لے جاتی ہے۔ محمد علی سید کی یہ کوشش ثابت کرتی ہے کہ امام حسین (ع) کی دعائیں صرف زبانی نہیں بلکہ ان میں علم، حکمت اور سائنسی بنیادیں بھی پنہاں ہیں۔ "عرفان دعائے عرفہ" دراصل ایک دعوتِ فکر ہے۔ ایک ایسی بصیرت بخش صدا جو علم، سائنس اور روحانیت کے درمیان مضبوط پل قائم کرتی ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم امام حسین علیہ السلام کی دعاؤں کو صرف تلاوت یا ترجمے کی سطح پر نہ رکھیں بلکہ ان میں پوشیدہ فکری، سائنسی اور عرفانی نکات پر غور و فکر کریں۔ محمد علی سید کی کتاب "عرفان دعائے عرفہ" اس سلسلے میں ایک تاریخی پیش قدمی ہے۔ ایک ایسی تحقیقی کاوش جو نہ صرف دعائے عرفہ کے مفاہیم کو اجاگر کرتی ہے، بلکہ اسے جدید علمِ حیاتیات، جینیات، میڈیکل سائنس اور فزیالوجی کی روشنی میں ایک زندہ معجزہ ثابت کرتی ہے۔

محمد علی سید صاحب نے امام حسین (ع) کے الفاظ میں چھپے ہوئے علمی و سائنسی خزانے کو نہایت آسان زبان، دلائل اور مثالوں کے ذریعے عام فہم بنا دیا ہے۔ آج جب دنیا علم کے میدان میں برق رفتاری سے آگے بڑھ رہی ہے، ہمیں بھی دینی متون کی سائنسی جہات کو اجاگر کرکے نئی نسل کو یقین دلانا ہے کہ ہمارا دین فقط جذباتی یا تعبدی نہیں بلکہ علمی و تحقیقی بنیادوں پر استوار ہے۔ اس ضمن میں ''عرفان دعائے عرفہ'' ایک مضبوط حوالہ ہے، جسے دینی مدارس، تبلیغی مراکز اور علمی نشستوں میں بطور نصاب یا کم از کم مطالعہ کے لیے شامل کیا جانا چاہیئے۔ اگر دعائے عرفہ کے ذریعے امام حسین (ع) کے علمِ لدنی اور ان کے فہم کو سمجھنے کی کوشش کریں گے تو نہ صرف دین کی وسعت بلکہ انسان کی عظمت بھی آپ پر آشکار ہوگی۔ آئیے، اس کتاب کو صرف ایک قاری کی حیثیت سے نہ دیکھیں، بلکہ اسے اپنے خطبوں، دروس اور درسی مجالس کا محور بنائیں، تاکہ آج کا نوجوان یہ جان سکے کہ اہل بیت علیہم السلام کا علم الہیٰ کتنا بلند، عمیق اور سائنسی بنیادوں پر استوار ہے۔ (جمعرات: 5 جون 2025ء/8 ذی الحجہ 1446ھ)

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: امام حسین علیہ السلام محمد علی سید صاحب عرفان دعائے عرفہ دعائے عرفہ کے نہیں بلکہ اور سائنس کے ذریعے بلکہ ان کرتی ہے عام فہم اور ان

پڑھیں:

امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ

اسلام ٹائمز: یہ کہا جا سکتا ہے کہ امام خمینیؒ نے عالم اسلام میں ایک ایسی فکری اور سیاسی بیداری کو جنم دیا، جسکے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کو اپنی شناخت، اپنی قوت اور اپنے مستقبل پر اعتماد کرنا سکھایا، وحدت اور بیداری کا پیغام دیا اور ظلم و استبداد کے مقابلے میں حق و عدالت کی آواز بلند کرنے کا حوصلہ عطا کیا۔ یہی وہ میراث ہے، جس نے انہیں بیسویں صدی کی مؤثر ترین اسلامی شخصیات کی صف اول میں لا کھڑا کیا اور جسکی بازگشت آج بھی عالم اسلام کے مختلف گوشوں میں سنائی دیتی ہے۔ تحریر: مجتبیٰ شجاعی

بیسویں صدی کی تاریخ میں ایسی عظیم اور غیر معمولی شخصیات نے جنم لیا، جنہوں نے اپنے افکار، کردار اور جدوجہد کے ذریعے دنیا کی سیاسی، سماجی اور فکری سمتوں کا رُخ موڑ دیا اور زمانے کی تقدیر بدل دی۔ حضرت امام خمینیؒ انہی نابغۂ روزگار اور درخشاں شخصیات میں شمار ہوتے ہیں، جنہوں نے نہ صرف ایران کی سیاسی تاریخ کو ایک نیا رخ عطا کیا، بلکہ پورے عالم اسلام کی فکری، ثقافتی اور سیاسی زندگی پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کیے۔ ان کی قیادت میں برپا ہونے والا اسلامی انقلاب محض ایک سیاسی تبدیلی نہ تھا بلکہ ایک ایسی فکری اور تہذیبی تحریک تھی، جس نے عالم اسلام میں دین، سیاست، آزادی، بیداری اور اجتماعی شعور کے بارے میں نئی بحثوں کو جنم دیا۔

بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینیؒ نے جب اپنی تحریک کا آغاز کیا، اس وقت عالم اسلام کا بیشتر حصہ سیاسی استبداد، بیرونی طاقتوں کے اثر و نفوذ، معاشی پسماندگی اور تہذیبی بحران کا شکار تھا۔ نوآبادیاتی دور کے اثرات ابھی تک مسلم معاشروں پر نمایاں تھے اور بہت سی اقوام اپنی تاریخی شناخت اور فکری خود اعتمادی سے محروم دکھائی دیتی تھیں۔ ایسے ماحول میں اسلامی انقلاب کی کامیابی نے مسلم دنیا کو یہ پیغام دیا کہ اسلام صرف عبادات اور انفرادی زندگی تک محدود مذہب نہیں، بلکہ ایک زندہ اور متحرک نظام حیات ہے، جو معاشرے کی تنظیم، ریاست کی تشکیل اور اجتماعی مسائل کے حل کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

انقلاب اسلامی کی کامیابی کا سب سے بڑا اثر یہ تھا کہ اس نے مسلمانوں میں خود اعتمادی اور خود شناسی کے ایک نئے احساس کو جنم دیا۔ ایک طویل عرصے تک یہ تصور عام رہا تھا کہ ترقی اور جدیدیت کا راستہ صرف مغربی نمونوں کی تقلید سے ہو کر گزرتا ہے، لیکن امام خمینیؒ نے اس نظریئے کو عملاً چیلنج کیا۔ انہوں نے امت مسلمہ کو اپنی تہذیبی میراث، دینی اقدار اور داخلی صلاحیتوں پر اعتماد کرنے کی دعوت دی۔ ان کا پیغام یہ تھا کہ مسلمان اگر اپنی فکری بنیادوں سے وابستہ رہیں تو وہ نہ صرف اپنی آزادی اور وقار کا تحفظ کرسکتے ہیں بلکہ ترقی اور استحکام کی نئی منازل بھی طے کرسکتے ہیں۔

اسی فکری بیداری کے ساتھ امام خمینیؒ نے وحدت اسلامی کے تصور کو بھی غیر معمولی اہمیت دی۔ ان کے نزدیک عالم اسلام کو درپیش اکثر مسائل کی جڑ باہمی انتشار اور فرقہ وارانہ تقسیم تھی۔ وہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ فقہی اور مسلکی اختلافات کو دشمنی کا سبب بنانے کے بجائے مسلمانوں کو اپنے مشترکہ عقائد، مشترکہ تاریخ اور مشترکہ مقاصد پر توجہ مرکوز کرنی چاہیئے۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے اسلامی وحدت کو اپنی سیاسی اور فکری جدوجہد کا بنیادی ستون قرار دیا اور امت مسلمہ کو ایک وسیع تر اسلامی اخوت کے تصور سے روشناس کرایا۔

وحدت اسلامی کے اس تصور کے ساتھ ساتھ امام خمینیؒ نے مظلوم اقوام کی حمایت کو بھی اپنی فکر کا اہم حصہ بنایا۔ ان کے نزدیک ظلم خواہ کسی بھی شکل میں ہو اور مظلوم کسی بھی خطے، مذہب یا مسلک سے تعلق رکھتا ہو، اس کی حمایت اور مدد ایک انسانی اور اسلامی فریضہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فلسطین کا مسئلہ ان کی فکر میں مرکزی حیثیت اختیار کر گیا۔ انہوں نے فلسطینی عوام کی جدوجہد کو صرف ایک قومی مسئلہ نہیں بلکہ پورے عالم اسلام کا مشترکہ مسئلہ قرار دیا۔ "یومِ القدس" کا اعلان دراصل اسی سوچ کا مظہر تھا، جس کے ذریعے انہوں نے مسئلہ فلسطین کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی کوشش کی۔

امام راحل حضرت امام خمینیؒ کی قیادت اور انقلاب اسلامی کے تجربے نے دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں کو بھی متاثر کیا۔ مختلف ممالک میں سرگرم دینی اور سیاسی حلقوں نے انقلاب اسلامی کو ایک ایسی مثال کے طور پر دیکھا، جس نے عوامی طاقت، مذہبی قیادت اور سیاسی عزم کے امتزاج سے ایک مضبوط نظام کو شکست دی۔ اگرچہ ہر ملک کے حالات اور تقاضے مختلف تھے، تاہم انقلاب اسلامی نے یہ احساس ضرور پیدا کیا کہ عوامی شعور اور نظریاتی استقامت کے ذریعے بڑی سیاسی تبدیلیاں ممکن ہیں۔

فکری سطح پر حضرت امام خمینیؒ کا ایک اہم کارنامہ دین اور سیاست کے تعلق کو ازسرنو موضوعِ بحث بنانا تھا۔ جدید دور میں یہ تصور بڑی حد تک رائج ہوچکا تھا کہ مذہب کو صرف انفرادی اور روحانی معاملات تک محدود رہنا چاہیئے، لیکن امام خمینیؒ نے اسلام کی جامعیت پر زور دیتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کیا کہ دین انسانی زندگی کے تمام شعبوں کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ ان کے اس نظریئے نے مسلم دنیا میں حکومت اسلامی، عوامی شرکت، دینی قیادت اور ریاست کے اسلامی تشخص کے بارے میں وسیع علمی مباحث کو جنم دیا۔

سیاسی میدان میں امام خمینیؒ کی فکر کا ایک نمایاں پہلو استعمار اور عالمی بالادستی کے خلاف مزاحمت تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ سیاسی آزادی اسی وقت معنی خیز ہوسکتی ہے، جب اس کے ساتھ فکری، ثقافتی اور معاشی آزادی بھی موجود ہو۔ ان کے نزدیک کسی بھی قوم کی عزت اور خود مختاری کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ اپنی داخلی صلاحیتوں پر اعتماد کرے اور بیرونی طاقتوں کے تسلط سے آزاد رہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا استقلال اور خود انحصاری کا پیغام دنیا کے مختلف مسلم معاشروں میں وسیع پذیرائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔

ثقافتی اعتبار سے بھی امام خمینیؒ نے مسلم معاشروں میں اسلامی شناخت کے احیاء میں نمایاں کردار ادا کیا۔ انہوں نے بارہا اس بات کی نشاندہی کی کہ تہذیبی خود فراموشی اور فکری مرعوبیت کسی بھی قوم کو اس کی اصل طاقت سے محروم کر دیتی ہے۔ اس لیے وہ اسلامی اقدار، دینی تعلیمات اور تہذیبی ورثے کی حفاظت کو ترقی اور بیداری کے لیے ناگزیر قرار دیتے تھے۔ ان کے یہ افکار خصوصاً نوجوان نسل میں ایک نئے فکری رجحان کا باعث بنے اور انہیں اپنی تہذیبی شناخت پر فخر کرنے کا حوصلہ ملا۔

بانی انقلاب کی شخصیت صرف ایک سیاسی رہبر تک محدود نہیں تھی بلکہ وہ ایک ممتاز فقیہ، عارف، فلسفی اور مفکر بھی تھے۔ ان کی علمی اور فکری کاوشوں نے انہیں عالم اسلام کے دانشور طبقے میں ایک منفرد مقام عطا کیا۔ ان کی فقہی، عرفانی اور سیاسی تصانیف مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوئیں اور دنیا بھر کے علمی مراکز میں ان پر تحقیق کا سلسلہ جاری رہا۔ اس طرح ان کے افکار محض سیاسی حلقوں تک محدود نہیں رہے، بلکہ علمی اور فکری دنیا میں بھی وسیع اثرات کے حامل ثابت ہوئے۔

4 جون 1989ء میں حضرت امام خمینیؒ کی رحلت نے پورے عالم اسلام کو سوگوار کر دیا۔ ان کے جنازے میں لاکھوں انسانوں کی شرکت اس حقیقت کا واضح ثبوت تھی کہ امام خمینیؒ کسی مخصوص طبقہ، کسی مخصوص مسلک یا صرف ایک ملک کے رہنما نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی اسلامی شخصیت کی حیثیت اختیار کرچکے تھے۔ آج ان کی رحلت کے کئی عشروں بعد بھی ان کے افکار، نظریات اور سیاسی تصورات عالم اسلام کی فکری اور سیاسی زندگی میں زندہ ہیں۔ استقلال، وحدت اسلامی، دفاع مظلوم، عوامی شرکت اور اسلامی تشخص جیسے موضوعات اب بھی مسلم دنیا کے اہم مباحث میں شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ معاصر عالم اسلام کی سیاسی و فکری تاریخ کا مطالعہ امام خمینیؒ کے کردار اور اثرات کے جائزے کے بغیر نامکمل تصور کیا جاتا ہے۔

مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ امام خمینیؒ نے عالم اسلام میں ایک ایسی فکری اور سیاسی بیداری کو جنم دیا، جس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کو اپنی شناخت، اپنی قوت اور اپنے مستقبل پر اعتماد کرنا سکھایا، وحدت اور بیداری کا پیغام دیا اور ظلم و استبداد کے مقابلے میں حق و عدالت کی آواز بلند کرنے کا حوصلہ عطا کیا۔ یہی وہ میراث ہے، جس نے انہیں بیسویں صدی کی مؤثر ترین اسلامی شخصیات کی صف اول میں لا کھڑا کیا اور جس کی بازگشت آج بھی عالم اسلام کے مختلف گوشوں میں سنائی دیتی ہے۔ (مضمون نگار صحافی اور ریسرچ اسکالر ہیں)

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے