فرنچ اوپن میں بڑا اپ سیٹ، جانک سینر نے جوکووچ کو شکست دے کر فائنل میں جگہ بنا لی
اشاعت کی تاریخ: 7th, June 2025 GMT
پیرس:عالمی نمبر ایک جانک سِنر نے ایک یادگار مقابلے میں 24 مرتبہ کے گرینڈ سلیم چیمپیئن نوواک جوکووچ کو شکست دے کر اپنے پہلے فرنچ اوپن فائنل میں جگہ بنا لی ہے۔
فلپ شاتریئر کورٹ پر کھیلے گئے اس دلچسپ سیمی فائنل میں سِنر نے جوکووچ کو 6-4، 7-5، 7-6 (3) سے ہرایا۔
یہ مقابلہ دراصل دو نسلوں کا ٹکراؤ تھا۔ 38 سالہ سربین اسٹار، جو ریکارڈ 25 ویں گرینڈ سلم ٹائٹل کی تلاش میں تھے، میچ کے ابتدائی لمحات میں اپنی بڑھتی عمر سے شکست کھاتے دکھائی دیے
تاہم نوواک جوکووچ نے حسب روایت دباؤ میں بہتر کارکردگی دکھاتے ہوئے تیسرے سیٹ میں تین سیٹ پوائنٹس حاصل کیے، لیکن وہ انہیں مکمل کرنے میں ناکام رہے۔
دوسری جانب سِنر نے اعصاب پر قابو رکھتے ہوئے ٹائی بریک میں شاندار کھیل پیش کیا اور دوسرے میچ پوائنٹ پر فتح سمیٹ لی۔
میچ کے بعد گفتگو کرتے ہوئے جانک سِنر نے جوکووچ کو عظیم ترین کھلاڑی قرار دیا اور کہا یہ میرے لیے ایک خاص لمحہ تھا کہ میں نوواک کے خلاف گرینڈ سلیم سیمی فائنل کھیل رہا تھا۔
جانک سِنر اب اتوار کے فائنل میں دفاعی چیمپیئن کارلوس الکاراز کا سامنا کریں گے، جن کے سیمی فائنل حریف لورنزو موسیتی انجری کے باعث چوتھے سیٹ کے آغاز میں ریٹائر ہو گئے تھے۔
دوسری جانب خواتین کے سنگلز فائنل میں آج آرائنا سبالینکا اور کوکو گاف مدِ مقابل ہوں گی، اور یوں 1984 کے بعد یہ پہلا موقع ہوگا کہ رولان گیروس میں مرد و خواتین دونوں فائنلز میں عالمی رینکنگ کی ٹاپ دو کھلاڑی آمنے سامنے ہوں گی۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: فائنل میں
پڑھیں:
20 سال تک بیوی سے بات نہ کرنے والا شوہر، وجہ آپ کو حیران کر دے گی
جاپان (Japan)میں ایک شوہر نے 20 سال تک اپنی بیوی سے بات نہیں کی۔
جاپان سے تعلق رکھنے والے ایک جوڑے کی کہانی نے دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب سمیٹ لی ہے۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ جاپان کے جزیرے ہوکائڈوسے تعلق رکھنے والے ایک 18 سالہ نوجوان نے ایک ٹیلی ویژن شو میں ایک غیر معمولی درخواست کی تھی اور ایک ایسے خاندانی مسئلے کے حل کے لیے مدد مانگی جو برسوں پرانا تھا۔
نوجوان میں بتایا کہ اس کے والدین تقریباً 20 سال تک ایک ساتھ رہے لیکن اس نے کبھی اپنے والدین کو آپس میں باقاعدہ گفتگو کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 2 دہائیوں تک شوہر اوکو کاتایاما اور ان کی اہلیہ یومی ایک ہی گھر میں رہے، تین بچوں کی پرورش کی اور ایک ساتھ کھانا کھایا لیکن اس کے باوجود ان کے درمیان شاذ و نادر ہی کوئی بامعنی بات چیت ہوئی۔
مزیدپڑھیں:تاریخی لارڈز کرکٹ گراؤنڈ سے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل کی میزبانی واپس لے لی گئی
اس خاموشی کی وجہ کوئی تلخ جھگڑا یا بے وفائی نہیں تھی بلکہ شوہر اوکو کاتایاما نے اپنی اہلیہ سے بات کرنا اس لیے چھوڑ دیا تھا کیونکہ وہ بیوی کی بچوں پر زیادہ توجہ پر حسد محسوس کرتا تھا۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ جب بیوی بات کرنے کی کوشش کرتی تو اوکو کاتا یاما عام طور پر صرف سر ہلا کر یا کوئی بے ساختہ جواب دیتا۔
اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے جوڑے کے سب سے چھوٹے بیٹے نے ایک ٹیلی ویژن پروگرام کے دوران اپنے والدین کے درمیان صلح کروانے میں مدد کی درخواست کی، جس کے بعد شو کی انتظامیہ نے جوڑے کی ملاقات کا انتظام اسی پارک میں کیا جہاں ماضی میں پہلی بار ملے تھے، جبکہ ان کے تینوں بچے کچھ فاصلے سے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔
ملاقات کے دوران شوہر نے خاموشی توڑتے ہوئے اپنی اہلیہ سے کہا کہ “ہماری بات چیت ہوئے خاصا عرصہ گزر چکا ہے، تم بچوں کے معاملے میں بہت فکرمند رہتی تھیں، اب تک تم نے بہت مشکلات برداشت کی ہیں اور میں ہر اس چیز کے لیے شکر گزار ہوں”۔