چین امریکا تجارتی مذاکرات پیر کو لندن میں ہوں گے
اشاعت کی تاریخ: 7th, June 2025 GMT
امریکا اور چین کے مابین تجارتی مذاکرات لندن میں پیر کو ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: چین امریکا سیزفائر، دونوں ممالک محصولات 3 ماہ کے لیے کم کرنے پر راضی
سی این بی سی کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ اور ٹرمپ انتظامیہ کے 2 دیگر اہلکار پیر کو لندن میں اپنے چینی ہم منصبوں سے تجارتی مذاکرات کے لیے ملاقات کریں گے۔
ٹرمپ نے کہا کہ بیسنٹ، جو بیجنگ کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لیے انتظامیہ کی کوششوں کی رہنمائی کر رہے ہیں، ان کے ساتھ کامرس سیکریٹری ہاورڈ لوٹنک اور امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر بھی شامل ہوں گے۔
صدر نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ میٹنگ بہت اچھی طرح سے چلنی چاہیے۔
مزید پڑھیے: مصنوعی ذہانت کی دنیا میں چین امریکا کو پیچھے چھوڑنے کے قریب پہنچ گیا
ٹرمپ نے سب سے پہلے انکشاف کیا تھا کہ جمعرات کو چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ طویل فون کال کے بعد مزید تجارتی بات چیت کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔
دونوں ممالک نے گزشتہ ماہ جنیوا، سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے دوطرفہ تجارتی مذاکرات کے بعد ایک دوسرے کے سامان پر زیادہ تر محصولات عارضی طور پر کم کر دیے۔
امریکی کامرس ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے چپ انڈسٹری کو چینی سیمی کنڈکٹرز کے استعمال کے خلاف خبردار کرنے کے بعد چین نے احتجاج کیا تھا۔ چین نے ٹرمپ انتظامیہ کے حالیہ اعلان پر بھی اعتراض کیا کہ وہ امریکا میں تعلیم حاصل کرنے والے کچھ چینی طلبا کے ویزے منسوخ کر دے گا۔
مزید پڑھیں: چین امریکا کی ٹیرف وار کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، مسعود خان
دریں اثنا ٹرمپ انتظامیہ نے چین پر الزام لگایا ہے کہ وہ جنیوا میں کیے گئے ایک وعدے کے مطابق سست روی کا مظاہرہ کر رہا ہے جس میں اضافی اہم معدنیات، جنہیں نایاب زمین کے نام سے جانا جاتا ہے، امریکا کو برآمد کرنے کی منظوری دی جائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین امریکا تجارتی مذاکرات چین امریکا مذاکرات.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین امریکا تجارتی مذاکرات چین امریکا مذاکرات تجارتی مذاکرات چین امریکا کے لیے
پڑھیں:
امریکا ایران مذاکرات میں تعطل کے بعد عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ
عالمی منڈی میں خام تیل(crude oil) کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کی بنیادی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں تعطل اور مشرقِ وسطیٰ میں غیر یقینی صورتحال کو قرار دیا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی تجارتی اعداد و شمار کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت میں تقریباً 1 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد اس کی قیمت 97 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ اسی طرح امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) بھی بڑھ کر 95 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ خلیجی معیار کے مطابق یو اے ای کا مربن کروڈ آئل بھی 96 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں یہ اضافہ صرف سیاسی کشیدگی کا نتیجہ نہیں بلکہ اس میں سپلائی چین سے متعلق خدشات اور عالمی سطح پر تیل کی بڑھتی ہوئی طلب بھی شامل ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں غیر یقینی صورتحال کے باعث سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں، جس کا براہ راست اثر تیل کی قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔
مزیدپڑھیں:بلوچستان میں ایرانی پیٹرول کی نئی قیمت 280 روپے فی لیٹر مقرر
توانائی کے ماہرین کے مطابق اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والے دنوں میں خام تیل کی قیمتیں مزید اوپر جا سکتی ہیں، جس کا اثر عالمی معیشتوں پر بھی پڑے گا۔
پاکستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ممالک کے لیے یہ صورتحال تشویشناک قرار دی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں اضافہ برقرار رہنے کی صورت میں ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے مہنگائی کا دباؤ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
ادھر حکومتیں اور توانائی مارکیٹس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، جبکہ سرمایہ کار مستقبل کی پالیسیوں اور جغرافیائی حالات کے حوالے سے غیر یقینی کیفیت کا شکار ہیں۔