بھارت کو مسلح جنگ کے بعد پانی کی جنگ میں بھی شکست ہوگی، خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 7th, June 2025 GMT
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ جس طرح بھارت کو روایتی جنگ میں شکست ہوئی، اسی طرح اگر پانی کو لے کر جنگ چھڑی تو وہ اس میں بھی ناکام رہے گا۔
یہ بھی پڑھیں:شملہ معاہدہ ختم ہونے کی بات کیوں کی؟ خواجہ آصف نے بتادیا
میڈیا رپورٹ کے مطابق خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان کے پاس پانی کے معاملات پر بھارت سے نمٹنے کی مکمل حکمت عملی موجود ہے۔
خواجہ آصف نے زور دے کر کہا ہم نے ماضی میں ہر محاذ پر دشمن کو شکست دی ہے اور مستقبل میں بھی ایسا ہی ہوگا۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان دریائے سندھ معاہدے سمیت تمام بین الاقوامی قوانین کا پابند ہے، جبکہ ہندوستان مسلسل ان معاہدوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
خواجہ آصف نے متنبہ کیا کہ اگر بھارت نے پانی کے بہاؤ میں غیر منصفانہ مداخلت جاری رکھی تو پاکستان کے پاس مناسب ردعمل دینے کے تمام اختیارات موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:’اسٹاپ اسرائیل، فری غزہ‘، اسپین کی ویڈیو شیئر کرنے پر خواجہ آصف پر تنقید کیوں؟
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان پانی کے تنازعے پر کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ پاکستان بارہا بھارت پر دریاؤں کے بہاؤ میں غیر قانونی رکاوٹیں کھڑی کرنے کا الزام عائد کر چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق پانی کا یہ تنازعہ جنوبی ایشیا میں ایک بڑے بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے، جس پر فوری مذاکرات کی ضرورت ہے۔
خواجہ آصف نے زور دیا کہ پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت پاکستان جنگ جنوبی ایشیا سندھ طاس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت پاکستان جنوبی ایشیا خواجہ آصف نے
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔
تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔