لاہور، رستم پارک میں ٹرانسفارمر پھٹنے سے دھماکہ، آگ پر قابو پایا گیا
اشاعت کی تاریخ: 8th, June 2025 GMT
لاہور:
رستم پارک کے علاقے میں ایک ٹرانسفارمر کے پھٹنے سے زوردار دھماکہ ہوا، جس کے بعد آک کے شعلے بلند ہوگئے۔
ٹرانسفارمر پھٹنے کے بعد شعلے رستم پارک کے پلاٹ میں موجود جھاڑیوں تک پہنچ گئے، جس سے آگ نے تیزی سے پھیلنا شروع کر دیا۔
مقامی افراد اپنی مدد آپ کے تحت آگ بجھانے کی کوشش کرتے رہے، تاہم پلاٹ میں خشک جھاڑیاں ہونے کی وجہ سے آگ مزید پھیل رہی تھی، جس سے گھروں تک پہنچنے کا خدشہ پیدا ہوگیا تھا۔
رہائشی علاقے کی قربت اور آگ کی شدت کے باعث مقامی افراد میں شدید خوف و ہراس پایا گیا۔ ریسکیو اور فائربرگیڈ کا عملہ موقع پر دیر سے پہنچا جس کی وجہ سے مقامی افراد کو مشکلات کا سامنا رہا۔
آگ بجھانے کے لیے چار فائر ٹینڈر ز نے حصہ لیا اور بالآخر رستم پارک پلاٹ کی جھاڑیوں میں لگی آگ پر قابو پالیا گیا۔
ریسکیو حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس واقعہ میں کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔ فی الحال پلاٹ میں کولنگ کا عمل جاری ہے تاکہ دوبارہ آگ بھڑکنے کا امکان ختم ہو سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: رستم پارک
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔