خوفناک ،آتشزدگی، 3 فیکٹریاں جل گئیں، کتنا جانی و مالی نقصان ؟ جانئے
اشاعت کی تاریخ: 8th, June 2025 GMT
لانڈھی ایکسپورٹ پراسیسنگ زون میں آتشزدگی سے 3 فیکٹریاں مکمل طور پر جل گئیں۔
فائر بریگیڈ حکام نے بتایا ہے کہ فائربریگیڈ کی مزید پانچ گاڑیاں آپریشن میں حصہ لینے کے لیے پہنچ گئی ہیں، مجموعی طور پر ایک درجن سے زائد گاڑیاں آگ بجھانے کےآپریشن میں شریک ہیں جبکہ مزید دو سنارکل کو طلب کرلیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق آگ رات چار سےساڑھے چار بجے کے درمیان لگی تھی، فیکٹری سے تاحال سامان نکالنے کا سلسلہ جاری ہے، آگ کو پھیلنے سے روک لیا گیا ہے اور اب آگ بجھانے کا عمل جاری ہے، جلد آگ پر مکمل قابو پا لیا جائے گا۔
ترجمان ریسکیو کے مطابق لانڈھی ایکسپورٹ پراسیسنگ زون میں ایک فیکٹری میں آگ لگی تھی جو دوبارہ بھڑک اٹھی اور ہوا تیز ہونے کے باعث آگ نے مزید دو فیکٹریوں کو لپیٹ میں لے لیا، دھوئیں کے باعث ریسکیو آپریشن میں مشکلات کا سامنا ہے۔
ریسکیو حکام کے مطابق دو پرانے کپڑوں کی فیکٹریوں اورایک آئل پراڈکٹ بنانے والی فیکٹری میں آگ لگی، فائر بریگیڈ حکام نے بتایا کہ متاثرہ فیکٹریوں سے سامان نکالنے کی کوششیں جاری ہیں، عید کی چھٹیوں کے باعث فیکٹریاں بند ہیں جس کے باعث کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تاہم مالی نقصان کی تحقیقات جاری ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: کے باعث
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔