وفاقی بجٹ 2025 آج پیش کیا جائے گا، 18 ہزار ارب روپے کا بجٹ، 2 ہزار ارب کے نئے ٹیکس متوقع
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: وفاقی حکومت آج شام 5 بجے اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں مالی سال 2025 کے لیے تقریباً 18 ہزار ارب روپے کا بجٹ پیش کرے گی، جس میں 2 ہزار ارب روپے سے زائد کے نئے ٹیکس لگائے جانے کا امکان ہے۔ بجٹ اجلاس کا چار نکاتی ایجنڈا جاری کر دیا گیا ہے جس کے تحت اجلاس کا آغاز تلاوت، حدیث، نعت رسول مقبول ﷺ اور قومی ترانے سے ہوگا، جس کے بعد وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اسپیکر کی اجازت سے بجٹ پیش کریں گے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق نئے مالی سال کے بجٹ میں غیر ترقیاتی اخراجات کا تخمینہ 16 ہزار 286 ارب روپے لگایا گیا ہے جبکہ بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 5 فیصد یعنی 6 ہزار 501 ارب روپے رہنے کا امکان ہے، ٹیکس ریونیو کا ہدف 14 ہزار 131 ارب روپے اور نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 5 ہزار 167 ارب روپے مقرر کیا جا رہا ہے، یوں مجموعی محصولات کا ہدف 19 ہزار 298 ارب روپے تجویز کیا گیا ہے۔
بجٹ میں کاربن لیوی کی مد میں 2.
وزارت خزانہ کے مطابق قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے 8 ہزار 207 ارب روپے اور دفاعی اخراجات کے لیے 2 ہزار 550 ارب روپے مختص کیے جائیں گے، سبسڈی کی مد میں 1 ہزار 186 ارب روپے جبکہ پنشن کی مد میں 1 ہزار 55 ارب روپے مختص کیے جانے کی تجویز ہے، جس میں پنشنرز کے لیے 10 فیصد اضافے کا امکان بھی شامل ہے۔
سرکاری ملازمین کے لیے خوشخبری ہے کہ گریڈ 1 تا 16 کے ملازمین کو 30 فیصد ڈسپیرٹی الاؤنس اور تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے، ساتھ ہی تمام سیلری سلیب پر 2.5 فیصد انکم ٹیکس کم کرنے کی سفارش بھی شامل ہے۔
ترقیاتی اخراجات کے لیے وفاقی ترقیاتی بجٹ 1 ہزار ارب روپے رکھا گیا ہے، جس میں 120 ارب روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والی این-5 شاہراہ بھی شامل ہے، ریاستی اداروں کا ترقیاتی بجٹ 355 ارب روپے تجویز کیا جا رہا ہے، صوبوں کو 8 ہزار 206 ارب روپے کی منتقلی جبکہ صوبائی ترقیاتی بجٹ 3 ہزار 300 ارب روپے متوقع ہے۔
پیٹرولیم لیوی 78 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 100 روپے فی لیٹر کرنے کی تجویز ہے، جس سے 1 ہزار 300 ارب روپے حاصل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات ڈیجیٹل ادائیگی پر اضافی چارجز نہیں ہوں گے لیکن نقد ادائیگی پر 2 روپے فی لیٹر اضافی دینا ہوگا۔
بجٹ میں نان فائلرز سے بینک سے 50 ہزار روپے سے زائد کی نقد رقم نکلوانے پر ٹیکس کی شرح 0.6 فیصد سے بڑھا کر 1.2 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ سول حکومت کے جاری اخراجات کے لیے 971 ارب روپے مختص کیے جا رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق بجٹ کی تیاری میں آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے حالیہ مذاکرات کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے اور مالیاتی نظم و ضبط کے ساتھ اصلاحات پر زور دیا گیا ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب آج اجلاس میں وفاقی بجٹ، مالیاتی بل 2025، اور محصولات سے متعلق اہم دستاویزات قومی اسمبلی میں پیش کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ہزار ارب روپے کی تجویز شامل ہے کے لیے گیا ہے کا ہدف
پڑھیں:
بجٹ 2026-27: جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس میں بڑی کمی کی تجویز
وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ(Budget) میں جائیداد کی خرید و فروخت پر عائد ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی تجاویز تیار کر لی ہیں، جن کا مقصد ریئل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور معاشی سرگرمیوں میں اضافہ کرنا ہے۔
ذرائع کے مطابق بجٹ تجاویز کے تحت فائلرز کے لیے غیر منقولہ جائیداد کی خریداری پر عائد ٹیکس کی شرح موجودہ 1.5 فیصد سے کم کر کے 0.25 فیصد کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح جائیداد کی فروخت پر عائد ٹیکس کو 4.5 فیصد سے کم کر کے 1.5 فیصد کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت ان اقدامات کے ذریعے پراپرٹی مارکیٹ میں موجود جمود کو ختم کرنا چاہتی ہے تاکہ خرید و فروخت کی سرگرمیوں میں اضافہ ہو اور تعمیراتی شعبہ دوبارہ متحرک ہو سکے۔
تاہم ان تجاویز پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف ٹیکسوں میں مجوزہ کمی کی مخالفت کر رہا ہے اور اسے حکومتی آمدن پر ممکنہ اثرات کے تناظر میں دیکھ رہا ہے۔
مزیدپڑھیں:بحر اوقیانوس کے اوپر سیکیورٹی الرٹ، طیارہ پونے 4 گھنٹے بعد واپس لوٹ آیا
حکومتی حکام کا مؤقف ہے کہ ٹیکس شرحوں میں کمی سے جائیداد کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھے گی، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں لین دین کا حجم بڑھنے سے مجموعی ٹیکس وصولیوں میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ حکومت کا یہ بھی خیال ہے کہ تعمیراتی سرگرمیوں کے فروغ سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور معیشت کے مختلف شعبوں کو فائدہ پہنچے گا۔
ذرائع کے مطابق ان تجاویز کے حتمی خدوخال آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات اور وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد آئندہ بجٹ میں شامل کیے جا سکتے ہیں۔