کسی نے تقریر سے نہیں روکا، تبلیغ والوں کی نااہلی کا معاملہ ہے: مولانا طارق جمیل کا ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
کسی نے تقریر سے نہیں روکا، تبلیغ والوں کی نااہلی کا معاملہ ہے: مولانا طارق جمیل کا ردعمل WhatsAppFacebookTwitter 0 10 June, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس )معروف عالم دین مولانا طارق جمیل کے سوشل میڈیا کے آفیشل اکانٹ سے وضاحت جاری کی گئی ہے۔آفیشل اکانٹ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مولانا طارق جمیل کی کسی تقریر کو نہ کسی سیاسی جماعت نے روکا ہے، نہ ہی اسٹیبلشمنٹ کا کوئی عمل دخل ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک اندرونی تبلیغ والوں کی نا اہلی کا معاملہ ہے۔ان کا کہنا تھاکہ تمام وی لاگرز اور یوٹیوبرز سے گزارش ہے کہ غیر مصدقہ باتوں کو پھیلانے سے گریز کریں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرحکومت بڑا فیصلہ ،، ٹیکس ادا نا کرنیوالے گرفتار ہو سکیں گے ،، کیسے ، کیوں اور کون کرے گا ؟تفصیلات سب نیوز پر حکومت بڑا فیصلہ ،، ٹیکس ادا نا کرنیوالے گرفتار ہو سکیں گے ،، کیسے ، کیوں اور کون کرے گا ؟تفصیلات سب نیوز پر بنگلہ دیشی ہائی کمشنر محمد اقبال کی چیئر مین سی ڈی اے سے ملاقات سی ڈی اے بورڈ کا گیارہواں اجلاس ،22عارضی ملازمین کو مستقل کر دیا گیا بجٹ: سود کی آمدنی پر ٹیکس کی شرح میں 5 فیصد اضافے کا فیصلہ نیا بجٹ؛ 2 ہزار ارب کے نئے ٹیکسز، یوٹیوبرز اور فری لانسرز ریڈار پر، نان فائلرز پر سختیاں وفاقی بجٹ ،پراپرٹی کے کاروبار پر ریلیف، سپرٹیکس میں کمی کا اعلان،Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: مولانا طارق جمیل
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔