اسماء عباس نے وائرل ڈانس ویڈیو کے پیچھے چھپی وجہ بتا دی
اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT
پاکستان کی معروف اداکارہ اسما عباس نے وائرل ڈانس ویڈیو کے پیچھے چھپی وجہ بتا دی۔
سینئر اداکارہ اسما عباس اور ان کی بیٹی زارا نور عباس کا تعلق پاکستان کے ایک باصلاحیت فنکار گھرانے سے ہے، ماں بیٹی دونوں ہی اپنی اداکاری، رقص اور شخصیت کی وجہ سے مداحوں میں بے حد مقبول ہیں۔
حال ہی میں دونوں کی ایک کلاسیکی کتھک رقص کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جسے دیکھ کر شائقین نے خوب سراہا تاہم، اسما عباس نے ایک پلیٹ فارم پر گفتگو کرتے ہوئے اس ویڈیو کے پیچھے چھپی دکھی اور جذباتی حقیقت سے پردہ اٹھایا۔
View this post on InstagramA post shared by Zara Noor Abbas Siddiqui (@zaranoorabbas.
اسما عباس نے بتایا کہ زارا نور عباس اب میری بیٹی کم، میری ماں زیادہ لگتی ہے، وہ ہر وقت میری خوشی اور خیریت کا خیال رکھتی ہے، اُس دن میری بہن سمبل شاہد کی برسی تھی اور میں بہت اداس تھی، زارا نے میری کیفیت محسوس کی اور فوراً ایک چھوٹا سا ڈانس پلان کیا۔
اداکارہ نے مزید کہا کہ جب ہم نے وہ ڈانس کیا تو میرا دل کچھ ہلکا ہو گیا، مجھے رقص ویسے بھی بہت پسند ہے اور جب میں نے زارا کے ساتھ وہ چند لمحے گزارے تو میں اپنے غم سے کچھ دیر کے لیے نکل آئی۔
اسما عباس نے کہا کہ زارا نے ڈانس کے بعد مجھ سے ہنستے ہوئے پوچھا امی، اب آپ کا ڈپریشن ٹھیک ہو گیا؟ میں نے مسکرا کر جواب دیا کہ ہاں ہو گیا۔
Post Views: 3
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔