محکمہ ایکسائز کا 50ارب کا ہدف عبور، 55 ارب روپے کا نیا ہدف مقرر
اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT
علی ساہی : محکمہ ایکسائز نےپہلی مرتبہ 50 ارب روپے کا ہدف عبور کر لیا، اور مجموعی وصولیوں میں 50 ارب 60 کروڑ روپے کا نیا ریکارڈ قائم کیا گیا۔
50ارب کا ہدف عبور، 55 ارب روپے کا نیا ہدف مقرر کر دیا۔تمام ملازمین کی 30 جون تک چھٹیاں منسوخ کردی گئیں۔ڈی جی ایکسائز عمر شیر کی زیر صدارت ڈائریکٹرز کانفرنس کاانعقاد کیا گیا۔تمام ریجنل ڈائریکٹرز نے ویڈیو لنک کے ذریعے کانفرنس میں شرکت کی۔کانفرنس میں ٹیکس ریکوری، فیلڈ سائنمنٹ اور اہداف پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
یو ای ٹی کے اے کلاس ملازمین اور اساتذہ کیلئے مالی امداد کی منظوری
ڈی جی عمر شیر کی افسران کو فیلڈ میں مسلسل موجودگی یقینی بنانے کی ہدایت کر دی۔سالانہ بنیادوں پر ٹیکس وصولیوں میں 30 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔محکمہ ایکسائز کی پالیسی کے مطابق ڈیجیٹل ٹولز اور محنت سے ریونیو میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ڈی جی ایکسائز محمد عمر شیر کا کہنا تھا کہ 55ارب کانیاہدف رواں مالی سال میں مکمل کر لیا جائے گا، سالانہ بنیادوں پر ٹیکس وصولیوں میں 30 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے،محکمہ ایکسائز رواں مالی سال میں ریونیو میں مزید نمایاں بہتری لائے گا، پنجاب کا ریونیو بڑھانے میں محکمہ ایکسائز کا کلیدی کردار ہے۔
محکمہ بلدیات نے480ارب کی ترقیاتی سکیموں کا بجٹ تیار کرلیا
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔