آج القادر کیس پر بانی اور بشری بی بی کی ضمانتوں پر سماعت ہونی تھی مگر بنچ توڑدیاگیا‘ عمرایوب
اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 11 جون2025ء)قائد حزب اختلاف عمر ایوب نے کہا ہے کہ آج القادر کیس پر بانی اور بشری بی بی کی ضمانتوں پر سماعت ہونی تھی مگر بنچ توڑدیاگیا۔انسٹالر رجیم نے ملک کو توڑ پھوڑ کر رکھ دیا ہے ہم اپنے تمام پابند سلاسل ساتھیوں کے ساتھ ہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے عمر ایوب خان نے کہا کہ ہم لوگ وقت پر ہائیکورٹ پہنچے سنگل بنچ اور ڈبل بنچ توڑ دیا گیا ہے ۔
(جاری ہے)
آج القادر کیس پر بانی اور بشری بی بی کی ضمانتوں پر سماعت ہونی تھی پانچ جون کو جج نے کہا کہ نیب اپنا وکیل پیش کرے۔انہوں نے کہا کہ بجٹ فیل ہے ، ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہ ہواوزیر اعظم اور صدر ہاؤس کے بجٹ میں اضافہ ہوا۔پٹرولیم لیوی 100 روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔عمرایوب نے کہاکہ ہمارے وقت پر 20 روپے پٹرولیم لیوی تھی آدھے سے زیادہ بجٹ سود کی ادائیگی میں جائے گا ۔انسٹالر رجیم نے ملک کو توڑ پھوڑ کر رکھ دیا ہے ہم اپنے تمام پابند سلاسل ساتھیوں کے ساتھ ہیںہمارے ایک دوست کو جیل کی سزا سنا دی‘بانی کو ان کے رفقا سے ملاقات نہیں کرنے دی جا رہی۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے نے کہا
پڑھیں:
اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔