انڈیا کا مسافر طیارہ گرنے پر یو این چیف کا گہرے رنج و غم کا اظہار
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 13 جون 2025ء) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے ایئرانڈیا کے جہاز کو پیش آنے والے حادثے پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے۔ لندن کی جانب اڑان بھرنے والا یہ مسافر بردار طیارہ آج انڈیا کے شہر احمد آباد میں گر کر تباہ ہو گیا جس پر عملے کے ارکان سمیت 242 مسافر سوار تھے۔
سیکرٹری جنرل نے حادثے کی خبر کو ہولناک قرار دیتے ہوئے اس میں ہلاک ہونے والوں کے عزیزوں سے دلی تعزیت کا اظہار کیا ہے۔
انڈیا میں اقوام متحدہ کے دفتر نے بھی اس المناک حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی اور انڈیا کی حکومت اور عوام سے یکجہتی کا پیغام جاری کیا ہے۔بوئنگ ڈریم کمپنی کا تیار کردہ یہ جہاز انڈیا کے معیاری وقت کے مطابق جمعرات دوپہر ایک بج کر 38 منٹ پر احمد آباد کے ہوائی اڈے سے روانہ ہوا جس نے لندن کے گیٹوک ایئرپورٹ پر اترنا تھا۔
(جاری ہے)
اس پرواز میں 169 مسافروں کا تعلق انڈیا، 53 کا برطانیہ، سات کا پرتگال اور ایک کا تعلق کینیڈا سے تھا۔پرواز سے کچھ دیر کے بعد یہ جہاز ایک میڈیکل کالج کے کیمپس کی عمارت پر گر گیا۔ حادثے میں جہاز کے مسافروں سمیت بڑی تعداد میں کالج کے طلبہ اور اساتذہ کے زخمی و ہلاک ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
اس حادثے کی ویڈیو اور تصاویر میں اس جہاز کو نیچی پرواز کرتے دیکھا جا سکتا ہے جس کے بعد وہ عمارتوں کے عقب میں غائب ہو جاتا ہے جہاں سے آگ اور دھوئیں کے مرغولے اٹھتے دکھائی دیتے ہیں۔ حادثے میں متعدد عمارتوں کو نقصان پہنچا جبکہ طیارے کا عقبی حصہ ایک عمارت میں دھنسا دکھائی دیتا ہے۔
جائے حادثہ پر لوگوں کی تلاش اور ان کی زندگی بچانے کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کا اظہار
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک